Slaughter Houses – Jang Magazine – Daily Jang

تفہیم المسائل

سوال: میں جہاں مقیم ہوں ،یہاں جانور ذبح کرنے سے پہلے بیل یا گائے کو شوٹ کیا جاتا ہے ،رائفل میں بے ہوش کرنے کی گولیاں /چھرے ہوتے ہیں، اس صورت میں کیا رائفل شوٹ کرنے والا مسلمان ہونا ضروری ہے یا پھر کافر بھی شوٹ کرسکتاہے، مسلمان شوٹ کرتے وقت کچھ پڑھے گا یا بغیر پڑھے ہی شوٹ کرسکتا ہے۔جانور شوٹ ہوجانے کے بعد اگر مرا نہ ہو تو ذبح کیا جاسکتا ہے اور اگر شوٹ کرنے کے بعد مر گیا تو کیا حلال ہوگا؟۔کیا بے ہوش کرنا جائز ہے ،ایک لاٹھی سے یا کسی چھوٹی مشین سے کرنٹ لگایا جاتا ہے جس سے جانور بے ہوش ہوجاتا ہے،بے ہوش کرنے والا مسلمان ہونا ضروری ہے یا کافر بھی کرسکتا ہے ،مسلمان کچھ پڑھ کر بے ہوش کرے گا یا بغیر پڑھے بھی کرسکتا ہے ، کیا آٹو میٹک مشین بے ہوش کرے تو وہ ذبیحہ حلال ہوگا۔کیا ذبح کرتے وقت تکبیر کا زور سے کہنا ضروری ہے یا آہستہ آواز میں تکبیر کہی جاسکتی ہے اور دل میں تکبیر کہی جاسکتی ہے ؟ اگر جانور کو حرام کھانا/غذا کھلائی جارہی ہو تو کیا ذبح حلال ہوگا؟براہِ کرم ذبیحہ سے متعلق ان سولات کے جوابات مرحمت فرمائیں۔( عبدالرافع اشرفی، آکلینڈ، نیوزی لینڈ)

جواب:۔ مغرب کے ذبح خانوں (Butcheries)میںیہ خود کار (Automatic) نظام ہے کہ گائے بیل کو ذبح کرنے سے پہلے لائن میں لگا کراس کے سر پر ہتھوڑا مارتے ہیں یا جیسا کہ آپ نے بتایا اس کو چھرے دار گولی سے شوٹ کرتے ہیں تاکہ وہ سُن (Unconscious)ہوجائے اور ذبح کے وقت مزاحمت نہ کرے، اسے Stunکرنا کہتے ہیں۔اگر اس عمل سے جانور میں حیات باقی رہتی ہے اور ذبح کرتے وقت اس کی رگوں سے دمِ مسفوح (ذبح کے وقت بہنے والا خون) نکل جاتا ہے ،تو یہ حلال ہے اگرچہ بے ہوش کرنے کا یہ عمل مکروہ ہے کہ جانور کو بلا وجہ ایذا دیناہے۔ جانور کے سر پر یہ ضرب کوئی بھی لگائے، جانورکا گوشت ذبح ہونے کے بعد حلال رہے گا، بشرطیکہ ذبح کے وقت وہ زندہ ہو اور دمِ مسفوح(Poured Blood) رگوں سے نکل جائے ، اس کے سر پر چوٹ لگانا یا اُسے شوٹ کرناذبح کا عمل نہیں ہے ۔ لیکن اگر وہ اس عمل سے مر جائے ،تو پھر وہ مردار ہے ،اسے ذبح کیا جائے یا نہ کیا جائے ،اس کا گوشت کھانا حلال نہیں ہے ، کیونکہ مردار ہونے کے بعد اس کا خون رگوں میں رہ جاتا ہے اور وہ حرام ہوجاتا ہے ۔ جانور کو بے ہوش کرتے وقت کچھ پڑھنا ضروری نہیں ہے ۔ ذبح کرتے وقت زبان سے بسم اللہ اللہ اکبر کہنا واجب ہے ،دل میں تکبیر پڑھ لینا کافی نہیں ہے ،یہ تکبیر کم از کم اتنی آواز سے پڑھی جائے کہ خود اپنے کانوں کو آواز آجائے اوربہتریہ ہے کہ آواز اتنی بلندہوکہ وہاں موجود دوسرے افراد سن سکیں، ذبح کرنے والے کا تکبیر کہنا واجب ہے ،سامنے کھڑے دوسرے شخص کا تکبیر پڑھنا ذبیحہ کے حلال ہونے کے لیے کافی نہیں ہے ۔

جانور کی غذا کا حلال ہونا ضروری نہیں ہے ،بہت سے لوگ یہ سوال اس لیے کرتے ہیں کہ اُن کے کہنے کے مطابق مرغیوں کی خوراک (Feed)میں ذبیحے کا خون یا کوئی حرام اجزا ہوتے ہیں ۔ پرانے زمانے میں دیہاتی علاقوں میں مرغیاں چل پھر کر کیڑے مکوڑے بھی کھاتی تھیں ، غلاظت بھی کھالیتی تھیں ،آج کل ان کی خوراک کیمیائی طریقے سے تیار کی جاتی ہے اور جب ایک مرکب (Compound)بننے سے اس کے اجزا کی ماہیت بدل جائے ،تو اس کا حکم بھی بدل جاتا ہے ۔ جو مرغیاں کھلی پھرتی ہوں ،گندگی یا غلاظت کھاتی ہوں ،اُنہیں تین دن تک بند کرکے رکھاجائے اور پاک غذادی جائے تاکہ ان کے پیٹ سے کھائی ہوئی نجاست کا اثر زائل ہوجائے ۔ان مسائل کی تفصیلات دس مجلّدات پر مشتمل ہمارے فتاویٰ کے مجموعہ ’’تفہیم المسائل‘‘میں موجود ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

مفتی منیب الرحمٰن سے مزید




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*