شریفوں کا محلہ

آج تیسرا دن ہے ہمارے محلے کا گٹر بند تھا
نالیوں میں سے سارا پانی گلی میں اکٹھا ہو رہا تھا۔
کمیٹی والوں کو بہت فون کیے
کل وہ آئے مگر کچھ سمجھ نا آئی اور خانہ پوری کرکے چلتے بنے
ناں پانی کا بہاؤ ٹھیک ہوا نا گلی میں سے پانی نکلا
رمضان میں یہ نئی مصیبت تھی ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ کپڑے پاک صاف رکھے۔ مگر اس گندے پانی سے کپڑے بچا کر مسجد تک پہنچنا عذاب بن چکا تھا
اوپر سے کمیٹی والوں کا رویہ
بار بار فون کرنے پر بھی کوئی صفائی کرنے نہی آرہا تھا
آج کچھ محلے والے اکٹھے ہوئے اور فیصلہ کیا کہ محلے والوں سے سو سو روپے اکٹھے کرکے اپنی مدد آپ کے تحت ہی گٹر صاف کرلیا جائے۔ مگر اس سے پہلے سب فیصلہ کریں کہ اس بار ووٹ کسی کو نہی دینگے
بلکہ ایک بینر لکھ کر لگا دیں کہ
#یہ_شریفوں_کا_محلہ_ہے_سیاسی_لٹیروں_کا_داخلہ_منع_ہے،
اگر کوئی داخل ہوا تو جوتوں سے استقبال کیا جائے گا
حاجی صاحب نے پانچ سو روپے دیے
دو نوجوان کپڑا خرید کر بینر لکھوا لائے اور گلی کی نکڑ پر بینر لگا دیا
اب مرحلہ تھا گٹر صاف کرنے کا
اس کام کیلیے ایک خاکروب سے دو ہزار طے ہوئے اور وہ بیچارہ پیٹ کی خاطر گٹر میں اتر گیا
پہلے تو وہ ایک بانس سے رکاوٹ نکالنے کی کوشش کرتا رہا مگر کچھ فائدہ نا ہوا
پھر وہ باہر نکل آیا اور مزید ایک ہزار کا مطالبہ کیا کہ اس گندے پانی میں ڈبکی لگا کر اندر تک جائے گا اور رکاوٹ نکالے گا
روزے اور گرمی سے ستائے ہوئے لوگ اب آپس میں لڑنے کے کہ فلاں گھر سے زیادہ گند نالی میں آتا ہے فلاں صاحب اپنا کوڑا نالی میں پھینک دیتے ہیں یہ ایک ہزار وہ دیں۔
کوئی حکومت کو ننگی گالیاں دینے لگا کہ یہ کام تو انکا ہے ،کسی نے اعلان کر دیا کہ اب کی بار اگر کوئی ووٹ لینے آیا تو میں اپنے باپ کا نہی اگر اسکو چھتر نا ماروں
مگر کیا ہو سکتا تھا؟
ملک صاحب آگے بڑھے اور ایک ہزار کا اعلان کیا اور خاکروب بیچارہ پھر گٹر میں اتر گیا
اس نے اپنے چہرے پر شاپر چڑھایا اور گٹر میں ڈبکی مار دی
کچھ سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ ساری گلی کا پانی فراٹے بھرتا ہوا گٹر میں داخل ہونے لگا
سب کے چہروں پہ مسکراہٹ آگئی
گٹر کے اندر سے خاکروب نے بانس باہر نکالا اور اور خود بھی سر باہر نکال کر چہرے سے شاپر اتار دیا
حاجی صاحب نے خوشی سے مسکراتے ہوئے اس سے پوچھا
کیا پھنسا ہوا تھا؟
خاکروب نے اپنا دائیاں ہاتھ اوپر کردیا جس میں ایک ننگ دھڑنگ نومولود بچے کی لاش تھی
۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *