سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں زمین پر لگنے کی شرط سے کیا مراد ہے ؟


سوال:۔
نماز میں سجدے کی حالت میں پاؤں کی انگلیوں کے سرے کا زمین پر لگنے کی شرط سے کیا مراد ہے، رکوع کے بعد سجدے میں جاتے ہوئے دونوں پاؤں دائیں طرف نکالنے کی وجہ سے میری کسی انگلی کا سرا زمین پر نہیں لگتا،اس سلسلے میں ازروئے شریعت رہنمائی فرمادیں۔

جواب:۔ اصل یہ ہے کہ سجدے کی حالت میں دونوں پاؤں زمین پر رکھنا واجب ہے، عذر کے بغیر ایک پاؤں کو اٹھانا بھی مکروہ تحریمی ہے، اگر پورے سجدے میں دونوں پیروں کو بالکل زمین سے اٹھائے رکھا تو سجدہ ادا نہیں ہوگا، کم از کم ایک انگلی کسی وقت زمین پر رکھ لی جائے تو فرض ادا ہوجائے گا۔ دونوں پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف سنت ہے۔ انگلی زمین سے لگانے کا مطلب یہ ہے کہ انگلی کے سرے کا گوشت زمین سے لگے یعنی انگلی زمین پر مڑجائے، البتہ چوں کہ عورتوں کے لیے نماز میں نبی کریم ﷺ کی ہدایت یہ ہے کہ وہ سمٹ کر سجدہ کریں ، کیوں کہ یہ ان کے لیے زیادہ سترپوشی کا باعث ہے ،اس لیے عورت سجدے میں پاؤں کھڑا کرکے انگلیاں قبلہ رخ نہ کرے، بلکہ دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کر سمیٹ کر سجدہ کرے اور وسعت کے مطابق پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ کرنے کی کوشش کرے۔ (السنن الکبریٰ للبيہقی ،2 / 315ہندیہ ،1 / 70،بحر (1 / 336)

از :
مولاناڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر
از :
مولاناڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *