پکی قبر ایک بہت ہی عمدہ تحریر

پکّی قبر

جب سے ماں جی فوت ہوئی تھیں آج پہلی بار خواب میں آئیں۔۔۔ میرے بالکل پاس ہی بیٹھی بتا رہی تھیں کہ۔۔۔ آج پھیکے کی امّاں سے ملنے گئی تھی۔۔۔ پھییکے نے اُن کے لیئے بہت سوہنا پکا گھر بنوایا ہے اور اُن کےصحن میں بہت خوبصورت پھل دار درخت بھی لگواۓ ہیں۔۔۔ اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔۔۔ پھیکے کی امّاں کو گزرے بھی کئی سال ہوۓ۔۔۔ بہت اچھا خواب تھا۔۔۔ سوچا پھیکا آۓ گا تو اس کو بتاؤں گا۔۔۔!
پھیکا دو دن سے گاؤں آیا تو ہوا تھا۔۔۔ لیکن ابھی تک ملنے نہیں آیا۔۔۔ جانے کن کاموں میں مصروف تھا۔۔۔ ابھی میں اُس کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ وہ چلا آیا۔۔۔ دل کو شاید دل سے راہ ہونے لگی تھی۔۔۔ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔ مگر چہرے پر ہمیشہ کی طرح بلا کا سکون۔۔۔! ہاں بھئی پھیکے کدھر تھے یار۔۔۔؟ میرے پوچھتے ہی ایسا لگا جیسے کمرے کی دیواریں بھی قریب قریب کھسک آئیں ہوں۔۔۔ وہ بھی پھیکے کی باتیں سننے کے لیئے بےچین تھیں۔۔۔ پھیکے کے جانے کے بعد ہواؤں میں بھی دعائیں گھلی ہوئی محسوس ہوتیں۔۔۔!
پھیکا کہنے لگا صاحب جی کیا بتاؤں۔۔۔؟ دو تین دن پہلے کام سے کار آ رہا تھا کہ راستے میں بس خراب ہو گئی۔۔۔ بڑی ظالم دوپہر تھی صاحب جی۔۔۔! گرمی شدید۔۔۔ نہ کوئی بندا تھا نہ بندے کی ذات۔۔۔ پیاس سے برا حال۔۔۔ سارے مسافر بلک رہے تھے۔۔۔ عجیب چمکتی ہوئی دھوپ تھی پل بھر کو لگتا نئی نویلی دلہن کی مانگ میں سیندور چمک رہا ہے۔۔۔ اور سنسان ایسی صاحب جی۔۔۔جیسے ابےّ کے گزر جانے کے بعد امّاں کا چٹا اُجڑا سر۔۔۔ پہلی بار گرمی کی دوپہر کے ساتھ اس طرح کی ملاقات ہوئی تھی صاحب جی۔۔۔ بہار نے نوحہ لکھ بھیجا تھا جیسے۔۔۔ ایک ہی اکلوتا درخت تھا۔۔۔ جس کے نیچے ہم سب مسافر بیٹھ گئے۔۔۔ دھرتی نے جویں اِکو ہی پُتر جنما تھا جی۔۔۔ اُس کی ٹھنڈی چھاؤں میں بہت سکون تھا صاحب جی۔۔۔ میری حالت تو ایسی تھی جیسے چڑی کے بوٹ کو آہلنے سے گرنے کے بعد اچانک کوئی مہربان اُٹھا کر واپس رکھ دے۔۔۔ یاکسی روتے بچے کو ماں ُبکل میں چھپالے۔۔۔ بڑا یاد آئی تھی صاحب جی۔۔۔ ماں اوس ویلے۔۔۔ ماں جیسا وڈا جگرا تھا جی اُس درخت کا۔۔۔ اُس نے سب کو اپنی چھاؤں میں سمو لیا تھا۔۔۔ بڑا شکر ادا کیا جی میں نے سوہنے اللہ کا۔۔۔ درخت کے نیچے ہم مسافر بیٹھے تھے۔۔۔اور اوپر پرندے۔۔۔ کئی گھنٹے ہم سب اُدھر اُڈیکتے رہے۔۔۔ پھر کدرے جا کر دوسری بس آئی۔۔۔ اور اللہ اللہ کر کہ ہم گھر پہنچے۔۔۔!
صاحب جی تھوڑے سے پیسے جمع کیئے ہوۓ تھے کہ امّاں کی قبر پکی کرواؤں گا۔۔۔ پھر میں نے ارادہ بدل دیا۔۔۔ قبر تو قبر ہی ہے نا کچی ہو یا پکی امّاں کو کیا فرق پڑنا ہے۔۔۔ وہ تو رب کے پاس چلی گئی۔۔۔ پر جیوندے جی جو ہیں نا اُن کا زیادہ حق ہے صاحب جی۔۔۔! اُن پیسوں سے میں نے بُوٹے خریدے ساتھ یار بیلی بُلاۓ اور لگانے شروع کر دیئے۔۔۔
سب سے پہلے امّاں کی قبر پر بڑا سوہنا امرود کا درخت لگایا اور پھر پنڈ آنے والی سڑک پر کتنے ہی درخت لگاۓ۔۔۔ اور اس کے علاوہ صاحب جی سارے یار بیلیوں کی ڈوٹی لگادی کہ لاری اڈے پر مسافروں کو ٹھنڈا پانی پلائیں۔۔۔ صاحب جی صبح چھیدے حلوائی اور اس کے بیٹوں کی ڈوٹی تھی پھر جی پَھمّے اور اس کے پرا وسیم کی۔۔۔ اور اب مَیں نِکے کے ساتھ دو گھنٹے مسافروں کو پانی پلا کر آیا ہوں۔۔۔ صاحب جی باہر تتی دوپہر تھی اور میرے اندر مگھر پوہ۔۔۔ اُس دن کی گرمی نے تو میرے ہوش اُڑا دیئے تھے جی۔۔۔اللہ بھلا کرے صاحب جی میرے کہنے پر سارے یار بیلی میرے ساتھ لگ گئے اب کل کم پر واپس شہر جانا ہے۔۔۔ سوچا آپ سے مل کر آپ سے دُعا لیتا جاؤں۔۔۔ آپ کو بتاۓ بغیر تو نئیں نا جاسکتا تھا صاحب جی۔۔۔!
اماں کی قبر پکی نہیں کروا سکا۔۔۔ پھیکا کہتے کہتے رو پڑا۔۔۔! وہ ایسا ہی تھا روتا اور رُلاتا۔۔۔ دل کی ساری گرہیں کھولتا جاتا۔۔۔! اُس کی باتیں میرے دل پر گہرا اثر کرتیں تھیں۔۔۔ وہ اپنی کہانی سُنا کر چلا جاتا۔۔۔! میری کہانی اُس کے جانے کے بعد شروع ہوتی۔۔۔ سوہنے رب سے دعائیں مانگتا۔۔۔ مجھے رنگ دے۔۔۔ پھیکے کے رنگ میں۔۔۔ کاش میں ہی پھیکا ہوتا۔۔۔! اللہ نے پھیکے کو اچھے کاموں کے لیئے چُن لیا ہے۔۔۔ بس کا خراب ہونا اس کے لیئے نیکی کمانے کانیا راستہ بنا گیا۔۔۔! زحمت رحمت بن گئی تھی۔۔۔ ہر بار پھیکا بازی لے جاتا۔۔۔ میں نے اگلی صبح ہی پورے گاؤں میں درخت لگانے کا کام شروع کروا دیا۔۔۔ اورچُپ چپیتے بخشو کو پھیکے کی امّاں کی قبر پکی کروانے کے لیئے بھیج دیا۔۔۔ مّیں حیران تھا۔۔۔ پھیکے کے ساتھ دل کو یہ کیسی راہ ہونے لگی تھی۔۔۔؟ میری آنکھوں میں آۓ شکرانے کے آنسو کل والے خواب کو بھگو رہے تھے۔۔۔!
(تحریر مُبشرہ ناز)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *