محبت کی زنجیر

محبت کی زنجیر !

میاں بیوی ایک جیکٹ میں لگی زنجیر Zip کے دو کنارے ہیں ،، اس زپ کی دونوں طرف سے ایک دندانہ بھی ڈیمیج ھو جائے تو زنجیر وہاں سے کھل کھل جاتی ھے ، ٹھیک اس جگہ آ کر اپنے Sequence سے باھر ھو جاتی ھے ، عقلمند وھی ہیں ھوتے ہیں جو Pull Tab کو کبھی اس دندانے تک نہیں لے جاتے کہ جہاں سے وہ اپنی حدود سے باھر نکل جائے اور گھرانے کو تتر بتر کر دے ِ مرد اور عورت انسان کی ان دونوں قسموں میں کچھ خامیاں لازم ھوتی ہیں ، میاں بیوی اگر ان مقامات کو سمجھنا چاہیں جہاں صنف مخالف کا دندانہ ڈیمیج ھے تو ان کے لئے کچھ مشکل نہیں ھوتا ، اس کو انڈر اسٹینڈنگ کہتے ہیں ، کہ میں نے اس مقام کو نہیں چھیڑنا جہاں سے میری بیوی یا میرا شوھر پلٹ کر ری ایکٹ کرے ،، ایسا گھرانہ خوش نصیب ھوتا ھے اور ایور لاسٹ فیملی ھوتی ھے ، مگر کچھ لوگ بظاھر پڑھے لکھے ھونے کے باوجود بچے تو پیدا کرتے چلے جاتے ہیں مگر روز Pull Tab کو باھر نکال کر پورے محلے کو تماشہ دکھا رھے ھوتے ہیں ،،

ھم انسان ہیں ـ

خامی ھمارا لازمہ ھے ، مجھے ۳۰ سال مکمل ھو گئے ہیں تراویح میں قرآن سناتے ھوئے مگر پہلے سال سے جو متشابے مجھے لگے تھے وہ ان ۳۰ سالوں میں ریکور نہیں ھوئے میں نے ھر جوکھم کر دیکھا ھے ، میں نے پورا سال قرآن کا دورہ نہیں کیا تا کہ رمضان میں نئے سرے سے جب یاد کروں تو شاید متشابے ساتھ پیچھا چھوڑ دیں مگر ڈھاک کے وھی تین پات ،، جونہی سبق یاد ھوتا ھے ساتھ وھی متشابے میں بحال ھو جاتے ہیں ، اور جتنی جتنی منزل زیادہ یاد ھوتی ھے ویسا ھی متشابہ بھی جوان ھوتا جاتا ھے ، میں نے اس کو پیلے رنگ میں ہائی لائٹ بھی کر کے دیکھا ، سرخ پین سے تیر کا نشان بنا کر بھی ددیکھا تا کہ جب یہاں پہنچوں تو پتہ چل جائے کہ کونسی آیت ھے ، مگر جب اس جگہ پہنچا تو بالکل بلینک ھو کر رہ گیا ،، مجبورا سامع کو پہلے بتانا پڑتا ھے کہ بھائی یہاں یہاں مجھے دھکے کی ضرورت پڑے گی ذرا ریڈی ھو کر رھنا ،،

بالکل اسی طرح میاں بیوی کی زندگی میں بھی کچھ جگہیں ایسی ھوتی ہیں کہ جہاں وہ لاکھ کوشش کر لیں ریکوری ناممکن ھوتی ھے ، یہ جینیٹکل بھی ھو سکتی ھے ، تربیت میں کمی کی وجہ سے بھی ھو سکتی ھے یا گھریلو ماحول یا والدین کے آپس کے لڑائی جھگڑے کے تابع نفسیات پر پڑنے والے Scars کا نتیجہ بھی ھو سکتی ھے ،، عقلمند اس بات کو محسوس کر لیتے ہیں کہ یہاں میرے شوھر یا بیوی کا وہ ویک پوائنٹ ھے جہاں بات اس کے بس سے نکل جاتی ھے ، لہذا وہ وھاں ڈیرہ نہیں لگا لیتے بلکہ اگنور کر کے آگے نکل جاتے ہیں ،،

عورت کا شوھر جتنا زیادہ اچھا ھوتا ھے وہ اس کے بارے میں ویسی ھی زیادہ حساس ھوتی ھے اور ھر وقت اس کے بارے میں اس کو دھڑکا لگا رہتا ھے کہ کوئی اس کو چھین نہ لے یا مجھ سے دور نہ کر دے ، جبکہ مرد اس بات سے چڑتے ہیں کہ یہ مجھ کو Dominate کرنے کے چکر میں ھے ، میری ماں بننے کے چکر میں ھے گویا میں کوئی بچہ ھوں ،، گویا ؎

ان کو آتا ھے پیار پر غصہ ـ
اور مجھے غصے پہ پیار آتا ھے ـ

شوھر جوں جوں جنجھلاہٹ کا اظہار کرتا ھے کہ تم میرے بارے میں اتنی زیادہ تاک جھانک کیوں کرتی ھو ، وہ بیچاری مزید شک میں مبتلا ھوتی جاتی ھے کہ وھی ھو کر رھا جس کا خدشہ تھا ،، کوئی اس کے کان بھر رھا ھے ، یا تو ماں باپ ، یا پھر میری کوئی سوکن ،، لہذا اب مزید سختی سے چینکنگ شروع ھو جاتی ھے موبائیل چیک ھوتے ہیں بلکہ ڈیلیٹ شدہ میسیجز ریکور کرنے والے سوفٹ وئیر تک استعمال کیئے جاتے ہیں ،، یوں بریک اپ کا عمل مزید سیریس ھو جاتا ھے اور وہ جن سے پل بھر جدا رھنا ناممکن تھا ، ان سے طلاق لے کر جہاز پہ بیٹھنا پڑتا ھے ـ

خود کو بھی ھم نے مٹا ڈالا مگر ـ
فاصلے جو درمیاں تھے رہ گئے ـ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *