magazine | Iqra – Daily Jang


تفہیم المسائل

سوال: ایک شخص نمازِ ظہراخیر وقت میں پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا ،اُس نے گمان کیا کہ نماز قضا ہوچکی ہے ،لہٰذا آج کی نمازِ ظہر قضا کی نیت کرلی ،بعد میں معلوم ہوا کہ جس وقت اس نے نماز پڑھی ،ظہر کا وقت باقی تھا ،کیا اس کی نماز اداہوگئی ؟ (سید عمیر الحسن برنی ،کراچی )

جواب: فقہی مسئلہ یہی ہے کہ وقتی نماز پڑھ رہا ہے تو قضا یا اداکی نیت کی ضرورت نہیں ،مطلق نیت کافی ہے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ آج کی (ظہر یا عصر) کی نیت کرلے ۔ اگر قضا نمازبہ نیتِ ادا پڑھی یا ادا بہ نیتِ قضا پڑھی ،تو نماز ہوجائے گی۔مثلاً :ظہر کا وقت ابھی باقی ہے اور اس نے گمان کیا کہ وقت نکل گیا اور اس دن کی نمازِ ظہر قضا کی نیت سے پڑھی یا وقت نکل جانے کے بعد اس نے گمان کیا کہ وقت ابھی باقی ہے ،اداکی نیت سے نمازپڑھی ،نماز ہوگئی ،یہی مختار قول ہے ۔تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے :ترجمہ:’’بہتر یہ ہے کہ آج کی ظہر کی نیت کرے کیونکہ اس کا مطلقاً جواز ہے، کیونکہ اداکی نیت سے قضا نماز صحیح ہے، جیساکہ قضا کی نیت سے ادانماز صحیح ہے ،یہی مختار قول ہے ۔(حاشیہ ابن عابدین شامی ،جلد3، ص: 74- 79، دمشق)‘‘

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے : (الف) مطلقاً نماز کی نیت کافی ہے ، قضا یا اداکی تعیین ضرروی نہیں ہے یازیادہ بہتر یہ ہے کہ آج کی (ظہر یا عصر) کی نیت کرلے ۔ (ب)کسی نے یہ گمان کرتے ہوئے کہ نمازِ ظہر کا وقت نکل چکاہے، ظہرکی نماز بہ نیت قضا پڑھی، جبکہ درحقیقت ابھی وقت باقی تھا ،تو نماز اداہوجائے گی ۔(ج)کسی نے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ابھی وقت باقی ہے ،نمازِظہر بہ نیت اداپڑھی ،پھر معلوم ہوا کہ وقت نکل چکاتھا ،تب بھی نماز صحیح طورپر ادا ہوگئی، اِن دونوں صورتوں کا مستفاد یہ ہے کہ ادا بہ نیتِ قضا اور قضا بہ نیتِ اداپڑھ لی تونماز درست ہے،جبکہ خطا نیت میں نہ ہو ،وقت کے حوالے سے گمان میں ہو۔ (د) نماز ظہر کا وقت باقی ہے اور اس نے قضائے ظہر پڑھی (اور اس کے ذمے کل کی ظہر کی قضا باقی تھی) ،تو اس سے وقتی ادا نماز سے بری الذمہ نہیں ہوگا ، کیونکہ اس نے قضا کی نیت کرکے نماز کو وقتی فرض سے پھیردیا اور اس سے وقتی نمازکی نیت نہیں پائی گئی کہ اسے قضا سے پھیر کر وقتی نماز کی طرف لے آئے ۔(ہ) ظہر کی نماز اداکی نیت سے پڑھی ،جبکہ اس کے ذمے کل کی ظہر کی قضا بھی باقی تھی تو اس طرح قضاء سے بری الذمہ نہیںہوگا ،خواہ وقتی ظہر پڑھ چکاہو۔صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں : ’’قضا یا ادا کی نیت کی کچھ حاجت نہیں، اگرقضا بہ نیت ادا پڑھی یا ادا بہ نیت قضا، تو نماز ہوگئی، یعنی مثلاً وقت ظہر باقی ہے اور اس نے گمان کیا کہ نماز کا وقت جاتا رہا اور اس دن کی نماز ظہر بہ نیت قضا پڑھی یا وقت جاتا رہا اور اس نے گمان کیا کہ باقی ہے اوربہ نیت ادا پڑھی، ہوگئی اور اگر یوں نہ کیا، بلکہ وقت باقی ہے اور اس نے ظہر کی قضا پڑھی، مگر اس دن کے ظہر کی نیت نہ کی تو نہ ہوئی، یوں ہی اس کے ذمہ کسی دن کی نماز ظہر تھی اور بہ نیت ادا پڑھی نہ ہوئی،(بہارِ شریعت ،جلداول،ص:495)‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

مفتی منیب الرحمٰن سے مزید




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*