Interest In Islamic Society – Jang Magazine – Daily Jang

ارشادِ ربّانی ہے:جو لوگ سود کھاتے ہیں،ان کا حال اس شخص جیسے ہوتا ہے،جسے شیطان نے چھوکر خبطی بنادیا ہو اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں،تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی چیز ہے۔حالاں کہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آجائے تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا،سو کھا چکا،اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے،وہ جہنمی ہے،جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔اے ایمان والو،اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر واقعی تم مومن ہوتو جو سود باقی رہ گیا ہے،اسے چھوڑدو اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اور اگر توبہ کرلوتو تم اپنے اصل سرمائے کے حق دار ہو ،نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔(سورۃ البقرہ)

یہ وہ آیات ہیں،جنہیں آیاتِ رِبا کہا جاتا ہے،جن کے مطابق سو د کو کلیتاً حرام قرار دے دیا گیا۔نبی اکرمﷺ کی بعثت سے پہلے سے اس وقت کے معاشرے میں سود کا عام رواج تھا اور اس دور میں شخصی سود بھی رائج تھا، تجارتی سود کی مختلف شکلیں بھی قائم تھیں۔ معتبر تاریخی شہادتوں کی موجودگی میں اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی ان دونوں قسموں کا رواج بدستور موجود رہا، یہاں تک کہ سود کے حرام ہونے کی آیات نازل ہوئیں۔ جن کی روشنی میں قیامت تک کے لیے سود کو اس کی تمام اقسام سمیت ابدی طور پرحرام قرار دے دیا گیا۔ قرآن مجید میں سود کے حرام ہونے کی صاف اور واضح آیات موجود ہونے کے ساتھ ساتھ سود کے حرام ہونے پر احادیث کا بڑا ذخیرہ بھی موجود ہے۔یہاں چند احادیث ذکر کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن حنظلہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’سود کا ایک درہم جو انسان کھالے اور اسے معلوم ہو کہ یہ سود کا ہے، یہ عمل چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے‘‘۔ (دارقطنی،مسند احمد)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’سود کے ستر حصے ہیں ،ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے ‘‘۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:ایسا گوشت اور خون جنت میں داخل نہ ہوگا جو حرام سے پلا ہو ،اس کے لیے دوزخ ہی صحیح حق دار ہے۔(ابن حبان)

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے،کھلانے والے،سود پر گواہ بننے والے اور (سود کا حساب)لکھنے والے پر لعنت کی ہے۔(ترمذی،صحیح مسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے، کھلانے ،لکھنے اور سود کے بارے میں گواہی دینے والے سب لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔(صحیح مسلم)حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’معراج کی رات میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا، جن کے پیٹ کوٹھڑیوں کی مانند تھے اور ان میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو کہ باہر سے نظر آرہے تھے ،میں نے پوچھا جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سود خور ہیں۔(ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو۔اللہ کے ساتھ کسی کوشریک کرنا۔جادو کرنا۔ناحق کسی کی جان لینا۔سود کھانا۔یتیم کا مال کھانا۔جہاد میں پیٹھ دکھا کر بھاگ جانا اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانا۔(صحیح بخاری)

قرآن وحدیث کے واضح ارشادات کی روشنی میں عقلی طور پر بھی سود کا جائزہ لیا جائے تو ایک انسانی عقل برملا اس اعتراف پر مجبور ہو جاتی ہے کہ اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور اقتصادی طورپر سود کے معاملات نقصانات سے بھرے ہوئے ہیں۔ سود کی وجہ سے انسان میں خود غرضی ،لالچ،بے رحمی اور سنگدلی جیسی بری عادتیں پیداہوجاتی ہیں جس سے معاشرے کا چین اور سکون بالکل ختم ہوجاتاہے اور ایسے معاشرے میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے خلاف بغض ، حسد ، کینہ پروری اور مفاد پرستی کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔اس کی بدولت ایک دوسرے کے کام آنے اور مدد کرنے کی بجائے ہر ایک کو اپنے فائدے کی فکرہوتی ہے۔ سود پر رقم دینے والا اپنی رقم پر برابر سود وصول کرتا رہتاہے، اُسے اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ قرض پر رقم لینے والے کا کتنا نقصان ہورہاہے؟سود کی وجہ سے سودی رقم دینے والے کی خودغرضی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ شدید ضرورت کے وقت بھی مثلاً کوئی بیمار ہے یا بھوک سے اس کی بری حالت ہے کسی کو بلاسود قرض دینے پر راضی نہیں ہوتا۔

جتناسرمایہ کاروبار میں لگایا جائے ملک اور قوم کو اتنا ہی فائدہ حاصل ہوتاہے، لیکن سودی رقم دینے والے سود کے بڑھنے کے انتظار میں آمدنی کا ایک بڑاحصہ روکے رکھتے ہیں اور اُسے کام میں نہیں لگاتے جس کی وجہ سے ملکی تجارت کو نقصان پہنچتاہے اور لوگوں کی معاشی حالت پراس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔چونکہ سودی رقم دینے والے کی نظر صرف اپنے ذاتی منافع پر ہوتی ہے، لہٰذااُسے جہاں زیادہ نفع ملتاہے، وہیںاپنا سرمایہ لگاتا ہے اُسے لوگوں کی ضروریات کی کوئی پروا نہیں ہوتی، اس سے دونقصان ہوتے ہیں، ایک یہ کہ اشیائے ضرورت کی قلت پیداہوجاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ مہنگائی میں اضافہ ہوجاتاہے اور عام لوگوں کی ضرورت کی چیزیں اُن کی دسترس سے باہر ہوجاتی ہیں اور انسانیت کی اکثریت غربت کی زندگی گزارنے پر یا سود پر رقم لے کر ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔مشاہدات وتجربات کی دنیا کا سرسری جائزہ لینے سے ہی یہ بات نمایاںہو جا تی ہے کہ جس معاشرے میںسود کا رواج ہوا، وہ معاشرہ بے پناہ اسباب اوروسائل مہیا ہونے کے باوجود بے چین، بے سکون اور غیر محفوظ ہو کر رہ گیا۔ انسان اخلاقی اقدار (محبت، ہمدردی، بھائی چارہ وغیرہ) جو خوشحال معاشرے کی لازمی ضرورت ہیں، انہیں کھو بیٹھا۔ ان اخلاقی اقدار کے ختم ہو جانے کے بعد احساس مروت ایسا پامال ہوا کہ انسانی معاشرہ خالص جانوروں کا معاشرہ بن کر رہ گیا ہے۔ سودی لعنت کی وجہ سے صحت کے میدان میں بھی ہوش ربا، روح فرسا صورتحال کا سامنا ہے۔ جسے ہر فرد میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔کیا اس صورتحال کو سود کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے؟ یا اس کے بعد بھی ابھی انجام باقی ہے جو کہ دنیا میں افلاس اور آخرت میں عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا۔موجودہ دور میں غربت و افلاس اورمعاشی بدحالی کا بنیادی سبب سودی لین دین ہے۔جو درحقیقت معاشی استحصال کی بنیاد اور معاشی عدم مساوات کا بڑا سبب ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

مفتی محمد نعیم سے مزید




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*