نفس کو کنٹرول کیسے کیا جائے؟


تحریر:حافظ محمد زبیر

دوست نے سوال کیا ہے کہ نفس کو کنٹرول کیسے کیا جائے نماز پڑھنا چاہتا ہوں لیکن کبھی تین پڑھ پاتا ہوں اور کبھی چار،ایک دوسرے دوست نے سوال کیا کہ فحش ویڈیوز دیکھنے سے بچنا چاہتا ہوں لیکن کبھی بچ پاتا ہوں اور کبھی دیکھ لیتا ہوں؟نفس کے بارے ایک اہم بات ذہن میں رہے کہ یہ آپ کا اپنا ہے اور اپنا نہیں بھی ہےیہ آپ کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی۔اس میں ایک ضدی بچے سے لے کر ظالم دشمن تک کے تمام کردار موجود ہیں۔

کہ جنہیں یہ

بخوبی نبھاتا رہتا ہےاس کا مقصد آپ کو گرانا نہیں بلکہ اپنا آپ منوانا ہے لہذا کچھ حکیمانہ تدابیر اختیار کرکے اسے با آسانی کنٹرول کیا جا سکتا ہےایک تدبیر تو یہ ہے کہ آپ اگر اپنے فرائض کی حفاظت چاہتے ہیں تو سنن کا اہتمام کریں۔سنن کی حفاظت چاہتے ہیں تو نوافل کا اہتمام کریں اس کو سمجھنا بہت آسان ہے کہ اپنے ارد گرد فرائض سنن اور نوافل کے دائرے بناتے چلیں جائیں کہ آپ کا دشمن شیطان اگر حملہ آور ہوگا تو سب سے باہر والا دائرہ متاثر ہوگا۔اگر آپ نے شیطان سے حفاظت کے لیے اپنی ذات کے گرد دائرہ ہی صرف فرائض کا بنایا ہے تو اس کا حملہ ہی فرائض پر ہوگا اور متاثر بھی فرائض ہی ہوں گے۔مثال کے طور اگر آپ تکبیر اولی کا اہتمام کرنے والے ہیں تو کبھی وہ رہ جائے گی لیکن جماعت مشکل سے ہی رہے گی اور اگر آپ جماعت کی نماز کا اہتمام کرنے والے ہیں تو کبھی وہ رہ جائے گی لیکن نماز مشکل سے ہی قضاء ہوگی اور اگر آپ بس نماز وقت پر پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں تو کبھی نماز قضاء ہو جائے گی اور کبھی اداءاور اگر آپ صرف نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں تو کبھی نماز چھوٹ ہی جائے گی ،بہت آسان ہے کہ اگر تہجد کے چھوٹنے پر افسوس کرنے والوں میں شامل ہیں تو ان شاء اللہ نماز قضاء ہونے پر افسوس کرنے والوں میں سے نہیں ہوں گے۔

اسی طرح کی تدبیر معصیت میں بھی اختیار کریں اگر فحش ویڈیوز سے بچنا چاہتے ہیں تو موویز اور ڈرامے دیکھنے بالکل بند کر دیں اگر موویز اور ڈراموں سے بچنا چاہتے ہیں تو وقت گزاری کے لیے مزاحیہ ٹاک شوز وغیرہ دیکھنا بند کر دیں اور ایسا مستقل طور کریں تو ان شاء اللہ ضرور فائدہ ہوگااب اگر شیطان کا حملہ ہوگا بھی تو سب سے باہر والے دائرے پردوسرا یہ کہ اپنے نفس کو یہ احساس دلاتے رہیں کہ اس کی مانی جا رہی ہے۔

یہ بہت ضروری ہے ورنہ تو وہ آپ کو گرانے کی پوری کوشش کرے گا اور اگر وہ اس کوشش میں لگ گیا تو گرنا آپ ہی کا مقدر ہے اس کا نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرتے رہیں تاکہ اسے اپنے غالب ہونے کا احساس باقی رہے اگر نماز پڑھنے کو دل نہیں کر رہا تو اسے یہ کہیں کہ چلو پڑھ لواس کے بعد تجھے میگنم آئس کریم کھلاتا ہوں یا وہ کھلا دیں کہ جس سے وہ خوش ہوتا ہوبس اسے یہ احساس ہو جائے کہ اس کی مانی گئی ہے بھئی یہ اپنی منوانے کے معاملے میں بیگم سے کم نہیں ہے اچھی طرح سمجھ لواب بیوقوفوں کی طرح اس کی ہر بات مان لو یا اسے لولی پاپ دیتے رہو یہ تمہاری عقلمندی اور سمجھداری پر منحصر ہے.





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *