میرے دل کو کیا دکھ ہے


ان کا نام حبیب بن مالک تھا اور وہ یمن کے بہت بڑے سردار تھے، ابوجہل نے پیغام بھیجا کہ حبیب محمدﷺ نے فلاں تاریخ کو چاند کے دو ٹکڑے کرنے ہیں تم یہاں آ جاؤ اور چاند کو دیکھنا کہ وہ دو ٹوٹے ہوتا ہے یا نہیں چنانچہ حبیب بن مالک نے رخت سفر باندھا اور کوہ ابو قیس پر پہنچ گئے،جہاں کفار نے مطالبہ کر دیا تھا کہ آسمانی معجزہ یہاں دکھاؤ یا چاند کو دو ٹکڑے کرو…! میرے آقا حضرت محمّد مصطفٰیؐ تشریف لائے اور چاند دو ٹکڑے کر دیا اور واپس تشریف لے گئے۔ خصایص الکبری

میں موجود ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ تک چاند دو ٹکڑے رہا…! حبیب بن مالک یہ دیکھ کر حضور اکرم حضرت محمّدؐ کے پاس تشریف لے آئے اور بولے: ’’یہ سب ٹھیک ہے لیکن بتائیں میرے دل کو کیا دکھ ہے…؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’تیری ایک ہی بیٹی ہے، جس کا نام سطیحہ ہے، وہ اندھی لولی لنگڑی بہری اور گونگی ہے، تجھے اس کا دکھ اندر سے کھائے جا رہا ہے۔ جاؤ اللہ تعالی نے اس کو شفا دے دی ہے…! حبیب یہ سنتے ہی دوڑ کر اپنے گھر آئے تو ان کی بیٹی سطیحہ نے کلمہ پڑھتے دروازہ کھولا، حبیب نے پوچھا کہ ’’سطیحہ تجھے یہ کلمہ کس نے سکھایا…؟‘‘ تو اس نے حضور اکرم حضرت محمّدؐ کا سارا حلیہ بتایا اور بولی: ’’اے ابا وہ آئے، مجھے زیارت بخشی اور دعا فرمائی اور مجھے کلمہ طیبہ بھی پڑھا گئے…!‘‘ حبیب واپس گئے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے اور نہ صرف مسلمان ہوئے بلکہ اسلام کی خدمت میں بھی پیش پیش رہے۔۔۔!
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائیک اور شیئر کریں۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *