’محبت کی وحشیانہ سزا‘ – BBC News اردو


Image caption

گاؤں کے لوگ اپنی دیہی اور قدیم ثقافت کو شہری رہن سہن کے اثر سے بچانے کے لیے ’جان دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں‘

دہلی کی ایک چوڑی سڑک پر ایک لڑکی اور ایک نوجوان ایک دوسرے سے چپک کر موٹر سائیکل پر سوار اپنی منزل کو جا رہے ہیں لیکن تقریباً سو کلومیٹر دور واقع ضلع روہتک کا گھروتي گاؤں ان کے لیے بیرونی دنیا کی طرح ہے۔

اس گاؤں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان اس طرح کی قربت موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

یہاں کی ایک لڑکی ندھی اور نوجوان دھرمیندر نے ایک دوسرے سے محبت کرنے کی جرات کی لیکن انہیں اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ندھی کی چتا کو آگ لگانے کے بعد اس کے ایک چچا نے مجھ سے کہا: ’جو کام کیا گیا ہے بہت اچھا کیا گیا ہے اس سے سبق ملے گا۔‘

ندھی کے چچا کا اشارہ اس کے اور دھرمیندر کے قتل کی طرف تھا جو پولیس کے مطابق بدھ کی شام ندھی کے گھر پر کیا گيا۔

چتا کے ارد گرد تقریباً 20 مرد جمع تھے۔ ندھی اور دھرمیندر دونوں کے رشتہ دار وہیں موجود تھے۔ ایک بزرگ نے کہا: ’انہیں بہت بار سمجھایا گیا۔ ایک ہزار بار سمجھایا گیا، آخر نہیں سمجھ میں آیا۔ پتہ نہیں کیسی عقل ہو جاتی ہے بچوں کی۔‘

بغل میں کھڑے ایک اور آدمی نے کہا: ’ہمارے معاشرے میں یہ نہیں چلتا۔ پیار، محبت کرنا شہروں کی ثقافت ہے، ہماری عورتیں پردے میں رہتی ہیں۔‘

یہ تو تھے ندھی اور دھرمیندر کے بزرگ رشتے دار۔ ہم نے ندھی کے ایک نوجوان کزن سے پوچھا کہ کیا آپ کے خیال بزرگوں سے مختلف ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا: ’وہ ایک ہی ذات کے تھے۔ بھائی بہن کی طرح تھے۔ جو غلط ہے وہ غلط ہے۔‘

مجھے گاؤں کے ان لوگوں کے چہروں پر درد اور غم نہیں نظر آیا۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’کون اپنے بچوں کو مارنا چاہتا ہے، لیکن بھگوان نے جو لکھا تھا وہ ہو گیا۔‘

’جو ہو گیا سو ہو گیا،‘ یہ عام تاثر ہے گاؤں میں، اور تقریباً تمام گاؤں والے دونوں کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ ابھی چتا ٹھیک سے جلی بھی نہیں تھی کہ وہ تمام وہاں سے اٹھے اور اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دیے۔

Image caption

پولیس نے ندھی کے ماں باپ اور ایک چچا کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے

ان کے گاؤں میں خوشحالی ہے۔ ندھی کے ایک رشتہ دار کا لباس شہر میں رہنے والوں جیسا تھا۔ میں نے پوچھا، آپ تو اس دوہرے قتل کی مذمت کر رہے ہوں گے ؟ انہوں نے کہا: ’نہیں، ہمارے گاؤں میں یہ سب چیزیں قبول نہیں کرتے۔ غلط ہوا ہے یہ، ان بچوں کو ایسا کرنا ہی نہیں چاہیے تھا۔‘

اچھی سڑک اور پکے مکانوں کے اس گاؤں میں خوشحالی صاف نظر آتی تھی۔ یہاں جدید ثقافت کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ ٹریكٹر اور سائیکلوں سے زیادہ موٹر سائیکلیں اور کاریں نظر آتی ہیں۔

گاؤں کے لوگ اپنی دیہی اور قدیم ثقافت کو شہری رہن سہن کے اثر سے بچانے کے لیے ’جان دے بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں۔‘

بدھ کی رات ندھی اور ان کے عاشق دھرمیندر کا یہی حال کیا گیا۔ دونوں دو سال سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے۔ اپنے رشتہ داروں سے ڈر کر وہ منگل کو دہلی فرار ہوگئے۔ لیکن دونوں کے خاندان والے انھیں اگلے دن گاؤں واپس بلانے میں کامیاب ہو گئے۔

روہتک کے پولیس افسر راجیش دگل نے بتایا کہ دھرمیندر کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے، اس کے علاوہ اس کی گردن بھی دھڑ سے جدا کر دی گئی۔ اس کے قتل سے پہلے ندھی کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی اور اس وقت تک کی گئی جب تک کہ وہ مر نہیں گئی۔

پولیس اسے’آنر کلنگ‘ یعنی غیرت کے نام پر کیا گيا قتل قرار دے رہی ہے۔ پولیس افسر کہتے ہیں کہ لڑکے کے رشتہ داروں نے جب لڑکی والوں کے خلاف شکایت درج کرائی تو وہ آنر کلنگ کی لائن پر معاملے کی تحقیقات کرنے پر مجبور ہو گئے۔

پولیس نے ندھی کے ماں باپ اور ایک چچا کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

گاؤں کے ایک اور شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ میں نے جب پولیس اہلکاروں سے پوچھا کہ لڑکے والوں کے رشتہ دار بھی قتل کے وقت موجود تھے تو انہیں اب تک کیوں گرفتار نہیں کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی کئی گرفتاریاں ہونا باقی ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *