محبت کیا ہے؟


ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ محبت کی ایک عمر ہوتی ہے۔تقریبا 18 ماہ۔اس کے بعد محبت نہیں ضد رہ جاتی ہے۔جب انسان دیکھتا ہے کہ جس سے وہ اتنی محبت کرتا تھا ‘ جس کا وہ اتنا خیال کرتا تھا `اپنا وقت اس کے لیئے خرچ کرتا تھا اور آج جب وہ شخص دور ہوتا دکھائی دے رہاہو تو انسان ضد پہ آجاتا ہے کیونکہ وہ اسکی ایک طرح کی انویسٹیمنٹ ہوتی ہے اور نتیجہ نفی ہوتا ہے تو انسان ضد کرنے لگتا ہے کہمجھے وہ چاہیئے ہی چاہیئے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ محبت ایک احساس کا نام

ہے۔ایک خوبصورت احساس۔یہ کبھی ختم نہیں ہوتی ہاں چہرے بدلتے رہتے ہیں۔محبت کبھی بھی کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔اگر رشتہ پاک ہو تو فیصلہ بھی حق میں ہوتا ہے۔اور محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اپنے رشتے کو محبت تک پاک رکھوکچھ لوگ ہیں جنہوں کے جدائی کا ج بھی نہیں چکھا کہتے ہیں کہ مجھے اس سے محبت نہیں عشق ہے۔ عشق کیا ہے؟ عشق تو کالا سیاہ ہوتا ہے۔عشق اول و آخر درد ہے۔۔۔ عشق محبت کی انتہا ہے۔۔۔۔جس کی جستجو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔یہ وہ آگ ہے جو ہر بھٹی میں سلگائی نہیں جاتی۔عشق حاصل نہیں لاحاصل کا جنون ہے،خواہش ناتمام ہے۔۔۔۔عشق کا جنم ہی جدائی کی کوکھ سے ہوتا ہے اور بھلا جدائی راحت دے سکتی ہے؟ جدائی تو درد دیتی ہے۔ اور جب یہ درد لہو بن کرجسم میں بہتا ہے تو پھر کوئی امید باقی نہیں رہتی۔۔۔۔عشق وہ آگ ہے جو جلائے تو،راکھ نہیں کرتا فنا کر دیتا ہے،عشق میں انسان دوسرے کے ہجر میں جلتا رہتا ہے۔کچھ لوگوں کا عشق انتہا کو پہنچتا ہے اور وہ موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ایک دوسرا انسان بھی ہوتا ہے جب وہ بے بس ہوجاتا ہے تو وہ سب خدا پہ چھوڑدیتا ہے۔ایسے کو اللہ اپنی پناہ میں لے لیتاہے۔ اور بے شک ایسا کرنے والوں کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہےاسے نماز سکون دیتی ہے۔اللہ کی عبادت باعث راحت ہوتی ہے اور یہی عشق حقیقی ہے۔اے ابن آدم تو بھول مت تیرا مقصد کیا ہے۔جنت سے نکالا گیا ہے تو یہ زندگی تیرے لیئے رحمت ہے۔لوٹ جا اپنے رب کی جانب بے شک سب فنا ہونے والا ہے….!!!





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *