’’عشرہ رحمت‘‘ اور ہمارے معمولات

’’عشرہ رحمت‘‘ اور ہمارے معمولات

صحابئ رسولؐ، حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’رمضان المبارک کا ابتدائی حصّہ رحمت، درمیانی حصّہ مغفرت اور آخری حصّہ آتشِ دوزخ سے نجات ہے۔‘‘ یہ بابرکت اور باسعادت مہینہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے امّتِ مسلمہ کے لیے عظیم نعمتوں میں سے ایک گراں قدر نعمت ہے۔ حضرت ابو مسعود غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اگر لوگوں کو رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کا علم ہوجائے، تو میری امت تمنّا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘ معروف فقیہ، ابواللیث سمرقندیؒ اپنی کتاب ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’جنّت کو شروع سال سے آخر سال تک رمضان المبارک کی خاطر آراستہ کیا جاتا ہے اور خوشبوئوں کی دھونی دی جاتی ہے، پس جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے، تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے، جس کا نام ’’مشیرہ‘‘ ہے، جس کے جھونکوں کی وجہ سے جنّت کے درختوں کے پتّے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں، جس سے ایسی دل آویز سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہ سنی ہوگی، ایسے میں خوش نما آنکھوں والی حوریں اپنے مکانوں سے نکل کر جنّت کے داروغے سے پوچھتی ہیں ’’یہ کیسی رات ہے؟‘‘ وہ جواب دیتے ہیں کہ ’’یہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہے۔‘‘ حوریں یہ منظر دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتی ہیں کہ اس مہینے میں ہمیں ان روزہ داروں سے جوڑ دیجیے۔ پس، جو بندہ بھی رمضان کے روزے رکھتا ہے، اسے خوش نما آنکھوں والی دو حوروں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ’’میری امّت کو پانچ چیزیں رمضان المبارک میں خاص طور پر دی گئی ہیں، جو پہلی امّتوں کو نہیں ملیں۔

ایک یہ کہ ان کے منہ کی بو، اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ دوسری یہ کہ فرشتے ان روزہ داروں کے لیے افطار کے وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں۔ تیسری یہ کہ رمضان میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۔ چوتھی یہ کہ جنّت ہر روز ان روزہ داروں کے لیے سجائی جاتی ہے، پھر حق تعالیٰ شانہ‘ فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے دنیا کی مشقّتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آئیں۔ پانچویں یہ کہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کی جاتی ہے۔‘‘

روزہ فرض عبادت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے ’’اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلی امّتوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم متقّی اور پرہیزگار بن جائو۔‘‘ (سورۃ البقرہ) یعنی روزے کا اصل مقصد متقّی اور پرہیزگار بننا ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف)امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت کعب ابن احبارؓ سے سوال کیا کہ ’’تقویٰ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا ’’کیا آپ کبھی کانٹوں بھرے راستے پر چلے ہیں؟‘‘ حضرت عمرؓ نےاثبات میں جواب فرمایا، تو حضرت کعبؓ نے پوچھا ’’آپ نے اس راستے کو کیوں کر طے فرمایا؟‘‘ حضرت عمرؓ نے جواب دیا ’’ خود کو کانٹوں سے بچاکر سمٹ سمٹا کر۔‘‘ حضرت کعبؓ نے کہا ’’اے امیرالمومنین! یہی تقویٰ ہے، دنیا کانٹوں بھرے راستے کی مانند ہے اور اس سے بچ کر نکل جانا تقویٰ ہے۔‘‘ تقویٰ انسانی قلب و روح میں اس مثبت تبدیلی کا نام ہے، جس کے بل پر ہم اپنے نفس سے جہاد کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں۔

اورتقویٰ کے حصول کا سب سے موثر ذریعہ ’’ماہِ رمضان ہے۔‘‘ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جب رات کا آخری تہائی حصّہ باقی رہ جاتا ہے توحق تعالیٰ شانہ‘ (عرش سے) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے ’’مجھ سے کوئی دعا مانگنے والا ہے تاکہ میں اس کی دعا پوری کروں ،مجھے کون بلاتا ہے کہ میں اسے جواب دوں،مجھ سے کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کروں،مجھ سے کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کی مغفرت کروں ؟“(صحیح بخاری)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ ’’رمضان کے آتے ہی جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ کر قید کر دیا جاتا ہے، اور قیامّت کے دن روزے دار جنّت کے خوب صورت ترین دروازے ’’ریان‘‘ سے جنّت میں داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ رمضان میں تمام مومنین کے رزق کو بڑھا دیتا ہے اور متقّی روزے داروں کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘ حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ اس کے چہرے کو دوزخ کی آگ سے ستّر برس کی مسافت کے برابر دور کر دے گا۔‘‘

پہلے عشرے سے شروع ہونے والے اعمال و افعال:رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے بعد اس ماہِ مبارک کے حوالے سے ادا کیا جانے والا سب سے پہلا عمل تراویح کی نماز ہے، جس کے لیے اہل ِایمان ذوق و شوق سے مساجد کا رخ کرتے ہیں، جہاں بعد نمازِ عشاء عشق و محبت کی معطّر فضائوں سے سرشار تراویح کے ایمان افروز روحانی اجتماعات میں کیف و سرور کی لذتوں سے بھرپور حفّاظِ کرام کی مسحور کن تلاوتِ کلام پاک روح پرور سماں باندھ دیتی ہے اور سامعین حبّ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰؐ میں ڈوب کر ان پاکیزہ ساعتوں میں محو ہو جاتے ہیں۔

قیامِ لیل میں تراویح کی بڑی فضیلت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم20رکعت تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ (مجمع الزوائد)۔ نمازِ تراویح باقاعدہ جماعت سے پڑھنے کا نظام حضرت عمر فاروقؓ کے عہد سے شروع ہوا۔ تراویح کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ روزانہ تراویح باجماعت پڑھنے کے ثواب کے علاوہ مہینے میں کم از کم ایک بار پورا قرآن سننے کا شرف اور ثواب حاصل ہوجاتا ہے۔ تراویح کی نماز، رمضان کے پورے مہینے پڑھنی چاہیے، اگرچہ قرآن شریف پہلے ہی ختم ہو چکا ہو۔ عموماً لوگ ختم ِقرآن کے بعد تراویح کی نماز ترک کر دیتے ہیں، جو درست نہیں۔

رمضان کے مبارک مہینے میں تہجّد کا اہتمام بھی بہت آسانی سے کیا جاسکتا ہے، اس کے لیے سحری سے بیس منٹ قبل اٹھ کر تہجد کی نماز ادا کی جاسکتی ہے،جو قربِ الٰہی اور قبولیتِ دعا کا بہترین وقت بھی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’ فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل تہجّد کی نماز ہے۔‘‘ (مسندِاحمد)سحری کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ سحری کھایا کرو، سحری کھانے میں برکت ہے، کچھ نہ ہو، تو چند گھونٹ پانی ہی پی لیا کرو۔‘‘ (مسندِ احمد)اس ماہِ مبارک میں زیادہ تر لوگ باجماعت نماز کی طرف راغب ہوجاتے ہیں، باجماعت نماز کی ادائیگی مومن کی پہچان ہے۔

رسول اللہؐ نے فرمایا ’’چالیس دن تک تکبیر ِاولیٰ کے ساتھ نماز با جماعت ادا کرنے والے کودوزخ اور نفاق دونوں سے دور کر دیا جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اگر لوگوں کو باجماعت نماز کے اجر و ثواب کا علم ہو جائے، تو وہ ہزاروں مجبوریوں کے باوجود جماعت میں دوڑے آئیں۔‘‘حضرت بریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اشراق کی نماز کی ادائیگی کا اجر و ثواب ایک عمرے کی ادائیگی کے برابر ہے۔‘‘ اشراق کی چار رکعت نماز انسان کے تمام مصائب و مشکلات کے زہر کا تریاق ہے۔ اشراق کے معنی ہیں، طلوعِ آفتاب۔

طلوعِ آفتاب کے کم از کم بارہ منٹ کے بعد اشراق کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے۔چاشت کی نماز مستحب ہے۔ چاشت کی نماز، زوال کے وقت سے پہلے تک ادا کی جا سکتی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی چار رکعت نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے چاشت کی نماز کا اہتمام کیا، اس کے سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، چاہے وہ کثرت میں سمندر کے جھاگوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘ (ترمذی) علاوہ ازیں، رمضان المبارک میں نماز مغرب کے بعد چھے رکعت نفل نماز کو بھی اپنا معمول بنا لیں، یہ نماز اوّابین کہلاتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔

دوپہر کے آرام کو’’ قیلولہ‘‘ کہتے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’تہجّد اور سحری میں جلدی اٹھنے کے لیے دن میں قیلولہ سے مدد لیا کرو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی آرام فرمایا کرتے تھے۔ رمضان میں خاص طور پر دفاتر اور فیکٹریز کے اوقاتِ کار کم ہو جاتے ہیں، لہٰذا بعد نمازِ ظہر کچھ دیر آرام کرنے سے قیامِ لیل میں مدد مل سکتی ہے۔سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمر بھر یہ معمول رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سحری میں تاخیر اور افطاری جلدی فرماتے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسند وہ ہیں، جو روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔‘‘ (ترمذی)حضرت سلمان بن عامر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ جب تم میں سے کوئی شخص افطار کرے، تو اسے چاہیے کہ کھجور سے افطار کرے، کیوں کہ اس میں برکت ہے اور اگر کھجور نہ پائے، تو پانی سے افطار کرے، کیوں کہ وہ پاک ہے۔‘‘ (ترمذی)روزہ داروں کو افطار کروانے کی بڑی فضیلت ہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ’’جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کروائے گا، اسے روزہ دار کے برابر ہی ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کمی آئے۔‘‘ (ترمذی)

زکوٰۃ کی ادائیگی ہر صاحبِ حیثیت پر فرض ہے، اس کی ادائیگی کا بہترین اور افضل وقت ماہِ رمضان ہے، جہاں ہر فرض عبادت کا ثواب ستّر گنا زیادہ کر دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس شخص کو اللہ نے مال دیا اور پھر اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی، تو خود اس کا یہ مال قیامت کے دن زہریلے سانپ کی شکل اختیار کرلے گا اور اس کے گلے کا طوق بن جائے گا، پھر اس کے جبڑوں کو یہ سانپ پکڑ کر کہے گا ’’میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔‘‘ (بخاری) یاد رہے، زکوٰۃ کے پہلے حق دار غریب رشتے دار ہیں، پھر پڑوسی، دوست احباب اور جان پہچان کے وہ لوگ، جو شرم کے باعث دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔

ایسے لوگوں کی عزت ِنفس مجروح کیے بغیر ان کی مدد کرنابے حد اجر و ثواب کا باعث ہے۔زکوٰۃ ،دراصل مال کا میل کچیل ہے اور اپنے مال کو پاک صاف کرنا ہر صاحب ِحیثیت پر فرض ہے، لیکن زکوٰۃ کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں فیّاضی سے خرچ کرنا، نماز کے بعد سب سے بڑی عبادت ہے۔ لہٰذا رمضان المبارک میں دل کھول کر ضرورت مندوں کی مدد کریں اور زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کریں۔ ایسے سخی لوگوں کو اللہ بے حساب دیتا ہے۔

غرض یہ کہ اس ماہِ مبارک میں جس قدر نیکیاں سمیٹ سکتے ہیں سمیٹ لیں، حقوق العباد پر خصوصی توجّہ دیں۔ ماہِ رمضان میں اپنے ماتحت ملازمین اور گھریلو نوکروں چاکروں کے اوقاتِ کار میں کمی کردیں اور ان کے ساتھ خصوصی طور پر نرم روّیہ رکھیں۔ شفقت، برداشت، درگزر اور فیّاضی کا مظاہرہ کریں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچیں۔رمضان المبارک میں قرآن فہمی کی عادت ڈال کر اسےترجمے ااور تفسیر کے ساتھ پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ ’’رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس میں ہم نے قرآن کو نازل کیا اور یہ کتاب متقّیوں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘

عشرئہ ’’رحمت‘‘ میں اللہ کو راضی کریں:حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’کتنے ہی روزے دار ہیں، جنہیں بھوک و پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا اور کتنے ہی راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں، جنہیں اپنی نمازوں سے رت جگے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘رمضان المبارک کا متبّرک و محترم مہینہ ایک بار پھر اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ سایہ فگن ہے۔ ان قیمتی ساعتوں کو غنیمت جانیے، کون جانے ،اگلے سال یہ بے شمار فضیلت والے انمول دن نصیب بھی ہوتے ہیں یا نہیں۔

ان مقدّس دنوں کے ایک ایک لمحے کو قیمتی جانیے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اپنے سَروں کو اللہ کے حضور جھکا دیجیے۔ شب کی تنہائیوں میں رب کے آگے آنسو بہایئے اور اسے راضی کرلیجیے۔رمضان کے ان بیش بہا دنوں میں اپنی زندگیوں کو بدل ڈالیے، اپنے اندر قوتِ ایمانی اور عشق محبوب سبحانی پیدا کیجیے۔ پھر دیکھیے، کس طرح اللہ آپ پر مہربان ہوتا ہے۔ یقین جانیے، اللہ کو راضی کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ بس ذرا سی فکر، ذرا سی محنت، ذرا سی عاجزی، ذرا سی جستجو درکار ہے۔اور روزانہ شب کی تنہائیوں میں اس کے آگے آنسوئوں کے چند قطرے۔ پھر دیکھیں، کس طرح دنیا کی کام یابیاں و کامرانیاں آپ کے قدموں میں ڈھیر ہوں گی۔ اور آخرت میں تو اللہ نے اجرِ عظیم کا وعدہ کر ہی رکھا ہے۔

رَبِّ اغُفِرُ وَارُحَمُ وَأَنُتَ خَیُرُ الرَّاحِمِينَ۔

ترجمہ:’’ اے میرے رب مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *