’’زکوٰۃ‘‘ اسلام کا بنیادی رکن ایک اہم دینی فریضہ

’’زکوٰۃ‘‘ اسلام کا بنیادی رکن ایک اہم دینی فریضہ

’’زکوٰۃ‘‘ اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔قرآن وسنت میں زکوٰۃ کی فرضیت اور فضیلت واہمیت پوری وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ یہ اسلام کا ایک اہم دینی فریضہ ہے،مختصر لفظوں میں زکوٰۃ معاشرے سے غربت کے خاتمے،معاشی کفالت اور نظم معیشت کا بنیادی سبب ہے۔شریعتِ اسلامی نے تمام عبادات اور نیک اعمال کی ادائیگی کے طریقے بھی اپنے ماننے والوں کو عطا فرمائے ہیں۔زکوٰۃ بھی چونکہ ایک عبادتی عمل ہے اورمالی عبادتوںمیں سب سے اہم عمل ہے، لہٰذا اس کے بنیادی ارکان بھی شریعت نے خود متعین کردیے ہیں۔

زکوٰۃ ادا کرنے والے کے لیے رب نے کیا انعامات مقرر کیے ہیں، اس سلسلے میں قرآن و سنت کی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں۔ارشادِ ربانی ہے:زکوٰۃ کی ادائیگی کی وجہ سے اللہ مال کو بڑھاتا ہے۔(سورۃ البقرہ:۲۶۷)٭… زکوٰۃکی وجہ سے ملنے والا اجر کبھی ختم ہونے والا نہیں، ہمیشہ باقی رہے گا۔ (سورۃ الفاطر:۲۹،۳۰)٭… اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسے افراد(زکوٰۃ ادا کرنے والوں)کا مقدر بن جاتی ہے۔ (سورۃ الاعراف:۱۵۶)

٭… کامیاب ہونے والوں کی جو صفات قرآن ِ پاک میں گنوائی گئیں ہیں، ان میں ایک صفت زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ہے۔٭… زکوٰۃ ادا کرنا ایمان کی دلیل اور علامت ہے۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ، رقم الحدیث:۲۸۰)

ایک حدیث شریف میں جنت کے داخلے کے پانچ اعمال گنوائے گئے ہیں، جن میں سے ایک زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ہے۔ (سنن ابو داوٴد، کتاب الصلاۃ)٭…انسان کے مال کی پاکی کا ذریعہ زکوٰۃ ہے۔ (مسند احمد:)٭… یہ انسان کے گناہوں کی معافی کا بھی ذریعہ ہے۔(مجمع الزوائد، کتاب الزکوٰۃ)

زکوٰۃ کی ادائیگی پر جہاں من جانب اللہ انعامات و فوائد ہیں، وہاں اس فریضہ کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے کے لیے قرآن ِ پاک اور احادیث ِ مبارکہ میں وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں ، اور دنیا و آخرت میں ایسے شخص کے اوپر آنے والے وبال کا ذکر بکثرت کیا گیا ہے، ذیل میں ان میں سے کچھ ذکر کیے جاتے ہیں:٭… جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اُن کے مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اِس سے اُن کی پیشانیوں، پہلووٴں اور پیٹھوں کو داغاجائے گا۔(سورۃ التوبہ:۳۴،۳۵)٭… ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کر اُس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔(سورۂ آل عمران:۱۸۰)٭… ایسا مال آخرت میں اُس کے کسی کام نہ آ سکے گا۔ (سورۃ البقرۃ:۲۵۴)٭… زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا جہنم والے اعمال کا ذریعہ بنتا ہے۔٭… ایسے شخص کا مال قیامت کے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا ،جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے ، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے،پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا ما ل ہوں ، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔(صحیح البخاری )٭… مرتے وقت ایسا شخص زکوٰۃ ادا کرنے کی تمنا کرے گا، لیکن اس کے لیے سوائے حسرت کے اور کچھ نہ ہو گا۔(سورۃ المنافقون:۱۰)٭… ایسے شخص کے لیے آگ کی چٹانیں بچھائی جائیں گی،اور اُن سے ایسے شخص کے پہلو ، پیشانی اور سینے کو داغا جائے گا۔(صحیح مسلم )٭… جب کوئی قوم زکوٰۃ روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قحط سالی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی)

شریعت نے زکوٰۃ کو مال کا میل قرار دیا ہے اور خود نبی اکرم ﷺ اوران کی آل کو اس سے دور رکھا ہے۔صاف اور واضح الفاظ میں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ غیر مستحق زکوٰۃ لے گا تو زکوٰۃ کا مال اصل مال کو بھی تباہ کردے گا۔اگر کسی کے پاس سونا،چاندی، مالِ تجارت، نقد رقوم ہوں اور ان تمام کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس سے زائد کی مالیت تک پہنچ جاتی ہے تو اس شخص کے لیے زکوٰۃکا لینا ناجائزہے۔لہٰذا گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں اور ملازمین کو بے دھڑک بغیر تحقیق زکوٰۃ دینے والوں کو اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کے بارے میں ضرور غور وفکر کرنا چاہیے، نیز زکوٰۃ اداکرنے والے کے دروازے پرآنے والے ہرکس وناکس کو بغیر تحقیق کہ آیا وہ مسلمان بھی ہے یا نہیں، مستحق ہے یا نہیں، سید (ہاشمی)تو نہیں زکوٰۃ کی رقم یا اشیاء بانٹ دینا بھی لمحۂ فکریہ ہے۔اسی طرح غریب علاقوں میں مندرجہ بالا امور کی تحقیق کیے بغیر زکوٰۃ بانٹنے والوں کو بھی علماء سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

علمائے کرام نے زکوٰۃلینے والوں کی چند صفات بھی بیان کی ہیں جو درج ذیل ہیں:٭… متقی پرہیزگار ہو یعنی دنیاسے بے رغبت اور آخرت کے کاموں میں مشغول ہو۔٭…اہلِ علم ہو۔علم(دین)میں مشغولیت عبادتوں میں اعلیٰ اور اشرف ترین عبادت ہے۔٭…موحد ہو، ایسے شخص کی نگاہ اسباب پر نہیں،مسبب الاسباب پر ہوتی ہے۔٭…اپنی ضرورتوں کو لوگوںسے چھپاتا ہو۔اپنی قلتِ معاش اور آمدنی کی کمی کارونا ہر کس وناکس کے سامنے نہ روتا رہتا ہو۔درحقیقت ایسا شخص ایسا ضرورت مند ہے جو ظاہر میں غنی ہے،حقیقت میں مستحق ہے۔٭…ایسا بیمار یا معذور ہو کہ کمائی سے عاجز ہو۔٭…غریب رشتے دارہو کہ اس میںصلۂ رحمی کا بھی ثواب ہے۔

’’زکوٰۃ‘‘ لغت میں پاک ہونے اور بڑھنے کو کہتے ہیں ۔شرعاً زکوٰۃ کے معنی’’صاحبِ نصاب شخص کا شرائط پوری کرلینے کے بعد اپنے مخصوص مال کا کسی مخصوص شخص کو مالک بنا دینا ہے‘‘۔صاحبِ نصاب اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس اپنے اور اپنے زیرِ کفالت افراد پر ان کی ضروریات پرخرچ کرنے اور اگر اس پر ذاتی طورپر کسی کا قرضہ ہو تو اسےشمار کرلینے کے بعد ضرورت سے زائد اتنی رقم مکمل طور پر اس کی ملکیت(اس کے قبضے میں ہو جسے وہ جس طرح چاہے استعمال کر سکتا ہو) میں سال کے شروع میںاور اس کے اختتام پر ہو کہ اس رقم سے ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس سے زائد خریدی جاسکتی ہو۔

مثلاً کسی مسلمان کے پاس زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی رقم کسی سال کے یکم رمضان میں (یا کسی بھی مہینے کی کسی بھی تاریخ میں)جمع ہوجائے جو نہ فوری طورپر کسی ضرورت کی ہو اورنہ ہی اس پر کسی کا قرضہ ہو، پھر ایک سال مکمل ہونے کے بعد پھر اگلے سال کے یکم رمضان کو اسی طرح کی بچت اس مقدار یا اس سے زائد کی ہو تو ایسا شخص شرعاً صاحبِ نصاب کہلاتا ہے۔

زکوٰۃ ادا کرنے والے کی شرائط:۔1:۔ مسلمان ہونا(مرد ہو یا عورت)۔2:۔ آزاد ہونا(غلام پر زکوٰۃ فرض نہیں)۔3:۔ عاقل (عقلمند )ہونا (مجنون اورپاگل پر زکوٰۃ فرض نہیں)۔4:۔ بالغ ہونا(نابالغ پر زکوٰۃ فرض نہیں)۔5:۔ مال کا مکمل طورپر ملکیت اورقبضے میںہونا۔

زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے اموال کی شرائط:۔1:۔ مال کا بقدرِ نصاب ہونا۔2:۔ مال ضروریات اصلیہ سے زائد ہونا۔3:۔ مال کا قرضوں سے فارغ ہونا(قرضہ ہونے کی وجہ سے وہ مال قرضے کے بقدر نہ ہونے کے حکم میں ہے)۔4:۔ مال کا حقیقتاًیا حکماً مقدار اورمالیت میں بڑھنے والا ہونا یعنی مالک چاہے توا پنے مال میں اضافہ بھی کرسکے۔5:۔مال پر سال کا پورا گزر جانا یعنی جس تاریخ کو مالک صاحبِ نصاب بنا ہو اگلے سال کی اس تاریخ کو اس کی صاحبِ نصاب کی حیثیت باقی ہو چاہے درمیان سال اس میں کمی کیوں نہ واقع ہوگئی ہو۔

زکوٰۃ کے حساب میں شامل ہونے والی چیزیں:۔(1)سونا (2) چاندی (3) مالِ تجارت (4)نقد رقوم۔

مندرجہ بالا اشیاء تھوڑی تھوڑی مقدار میں ہوں اور سب مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جاتی ہوںتو سب کو شامل کرکے زکوٰۃ کا حساب کیا جائے گا۔ہرہر شے پر علیحدہ علیحدہ سال پورا ہونا ضروری نہیں۔ زکوٰۃ کا سال مکمل ہوتے ہی تمام مذکورہ بالا چیزوں کی مالیت لگائی جائے گی، چاہے ان میں سے بعض چیزیں ایک لمحہ پہلے ہی کیوں نہ ملکیت میں آئی ہوں۔ مذکورہ بالا اشیاء کی قیمت خرید نہیں بلکہ سال پورا ہونے پر ان کی مارکیٹ قیمت سے حساب کیا جائے گا۔یعنی مالک اگرخود ان کو بازار میں بیچنے جائے تو جو قیمت اسے ملے گی ،اس کا حساب کیا جائے گا۔

زکوٰۃ کی مقدار:۔ہر سال زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے پر مذکورہ بالا چاروں اشیاء کی ٹھیک ٹھیک (پوری پوری) مالیت کا حساب کرکے ان میں سے ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی مقدار ہے۔

زکوٰۃ کے فرض ہونے کا وقت:۔زکوٰۃ کا سا ل مکمل ہوتے ہی زکوٰۃ کا ادا کردینا فرض ہوجاتا ہے اس میں بغیر کسی عذر کے تاخیر کرنا گناہ ہے، البتہ زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کرنے سے ادا ہوجائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *