ریاضی کے اعلیٰ ترین اعزاز کی پہلی خاتون فاتح


تصویر کے کاپی رائٹ

Image caption

مریم مرزاخانی نے ابتدائی تعلیم ایران میں حاصل کی جب کہ بعد میں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی

ایرانی نژاد ریاضی دان مریم مرزاخانی نے ریاضی کے میدان میں دیا جانے والا اعلیٰ ترین اعزاز فیلڈز میڈل جیتنے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔

پروفیسر مریم مرزاخانی کو ان کی پیچیدہ جیومیٹری کے لیے اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

انھیں ملنے والے اس اعزاز کو تاریخی قرار دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا گيا کہ یہ بہت زمانے سے واجب الادا تھا۔

مرزاخانی کو یہ اعزاز سیول میں ریاضی دانوں کی بین الاقوامی کانگریس میں دیا گیا۔ ریاضی کی بین الاقوامی کانگریس ہر چار سال بعد منعقد کی جاتی ہے اور اس میں چار میڈل دیے جاتے ہیں۔

اس بار اس کے فاتحین میں برطانیہ کی وارک یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن ہیئرر بھی ہیں۔ علمِ اتفاقیات پر ان کا گراں قدر کام موسم کو سمجھنے میں کارآمد ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ریاضی کے شعبے میں فیلڈز میڈلز کو نوبل انعام کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کا فیصلہ ریاضی کی بین الاقوامی یونین آئی ایم یو کی کمیٹی کرتی ہے۔

اس کا قیام کینیڈا کے ماہر ریاضی جان فیلڈز نے کیا تھا اور اس کے فاتحین کو میڈلز کے ساتھ 15 ہزار کینیڈین ڈالر کی رقم بھی انعام میں دی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

انھیں سیول میں ہونے والی کانگریس میں یہ اعزاز دیا گیا

پہلی بار یہ ایوارڈ سنہ 1936 میں دیا گیا تھا اور اس کے بعد سنہ 1950 سے ہر چار سال بعد دیا جاتا ہے۔ جان فیلڈز کا کہنا تھا کہ یہ اعزاز ایسے ریاضی دان کو دیا جانا چاہیے جو 40 سے زیادہ عمر کے نہ ہوں تاکہ وہ اپنی آنے والی زندگی میں مزید کارنامے انجام دیں۔

دوسرے دو فاتحین میں برازیل کے ریاضی داں آرتھر اویلا ہیں جنھوں نے اپنی پی ایچ ڈی ڈائنامیکل نظام پر 21 سال کی عمر میں مکمل کی۔ ان کے علاوہ چوتھے انعام کے مستحق منجل بھارگو ہیں۔

ہندوستانی نژاد منجل بھارگو پرنسٹن یونیورسٹی میں کینیڈین اور امریکی ریاضی دان ہیں۔

پروفیسر مرزاخانی یہ انعام حاصل کرنے والی پہلی خاتون ریاضی دان ہیں۔ ایک عرصے سے اس کمی کا احساس چلا آ رہا تھا کہ کسی خاتون کو اب تک یہ میڈل نہیں مل سکا تھا۔

میڈل کی کمیٹی کی ایک رکن اور آکسفرڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ڈیم فرانسیس کیروان نے کہا کہ ’ریاضی کو مردوں کا شعبہ تصور کیا جاتا ہے تاہم خواتین نے صدیوں سے اس میں گراں قدر تعاون پیش کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

Image caption

مریم مرزاخانی کو ریئمن سرفیس نامی ریاضی کے کنسٹرکشن پر انعام کا مستحق قرار دیا گیا

انھوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ برطانیہ میں ریاضی میں 40 فی صد خواتین انڈر گریجویٹ ہیں۔

انھوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ یہ انعام بہت سی لڑکیوں اور نوجوان خواتین کو اس ملک اور دنیا بھر میں تحریک دے گا کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کریں اور مستقبل کی فیلڈز انعام یافتہ بنیں۔‘

ایک دوسرے برطانوی ریاضی دان اور آئی ایم یو کے سابق صدر پروفیسر جان بال نے جنوبی کوریا کے شہر سیول سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پروفیسر مرزاخانی چند شاندار خواتین ریاضی دانوں میں سے ایک ہیں اور ان کی جیت انتہائی اہم ہے۔‘



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *