اسلام میں ’’روزے‘‘ کا فلسفہ اور اُس کی حقیقت

اسلام میں ’’روزے‘‘ کا فلسفہ اور اُس کی حقیقت

قرآن کریم کااصل موضوع ”رشد وہدایت“ ہے ،فلسفہ ،سائنس ،تاریخ ،فلکیات وغیرہ جتنے بھی مادی علوم وفنون ہیں، قرآن کریم ان علوم سے براہ راست تعرض نہیں کرتا،تاہم قرآن کریم میں شواہدوتمثیلات اور علوم وفنون سے متعلق ضمنی امور ،حقائق کا مرقع اور تحقیقات کا نچوڑ ہیں۔چناںچہ روزے کی ضروری معلومات ذکرکرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نےاس کے طبی ،جسمانی ،معاشی ومعاشرتی فوائدکوگنوانے کی بجائے ان کا نچوڑ بیان کردیاہے :روزہ سراپاخیر ہے، اگر تم حقیقت شناس بنو۔گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کو شاہراہ ِتحقیق دکھا کر میدان تحقیق میں اترنے کی دعوت دی ہے ۔ جدید وقدیم میڈیکل سائنس اس پر متفق ہے کہ روزہ جسمانی بیماریوں کے دور کرنے کا بہترین علاج اور جسم انسانی کے لیے ایک بہترین مصلح ہے۔ پھر اس سے سپاہیانہ ہمت اور ضبط نفس کی روح ساری امت میں تازہ ہوجاتی ہے، اس لحاظ سے بھی مہینے بھر کی یہ سالانہ مشق ایک بہترین نسخہ ہے۔میڈیکل سائنس کے ماہرین نے بعض مزید طبی وجسمانی فوائد بھی گنوائےہیں ،چند ایک ذکر پراکتفاء کیاجاتاہے:
ناکارہ خلیوں سےنجات :روزے میں بھوک بڑھنے کے سبب جسم کے اندرونی اعضاءمیں تحریک پیدا ہوتی ہےتوکمزور خلیےاس کی تاب نہ لاکر تلف ہوجاتے ہیں، اس طرح انسان جسم میں موجود ناکارہ خلیوں سے نجات حاصل کرلیتاہے۔
جسمانی نشوونماوچستی:بھوک کے اسی رد عمل سے زائد چربی ،رطوبات اورچکناہت زائل ہوجاتی ہے،جوچستی کاباعث اور جسمانی نشو ونما میں معاون ہے۔
ذہنی نشاط وچستی :روزے کے دنوں میں صحت مند وتوانا غذا کے استعمال سےخون کادورانیہ بہتر ہوجاتاہے،جس کی وجہ سے دماغ کو عمدہ اوروافر مقدار میں آکسیجن اور شوگر مہیاہوتی ہے۔نتیجۃًروزے دار کےدماغ میں چستی ونشاط پیداہوتی ہے اوروہ دماغی کام بہتر طریقے سے انجام دے سکتاہے۔
شوگرپر کنٹرول:روزے کا عمل نظام انہضام کے اہم غدود ”لبلبہ“ کوآرام وسکون پہنچاتاہے، لبلبے کاوظیفہ جسم کو انسولین مہیاکرناہے ،اور انسولین کاکام غذاؤں سے حاصل ہونے والی شوگر کوچربی میں تبدیل کرکے جسم کے ٹشوز میں جمع کرناہے۔جب انسان ضرورت سےزیادہ کھاتاہے تو کھانے سے حاصل ہونی والی وافر شوگر انسولین کے کنڑول سے باہر ہوجاتی ہے ،جس سے لبلبے پر بوجھ بڑھ جاتاہے اور وہ اپنا قدرتی فعل اچھی طرح انجام نہیں دیتا،جس سے خون میں شوگر کی مقدار بڑھتی رہتی ہے۔شوگر کا مریض جب روزہ رکھتاہے تو غذائی قلت کی وجہ سے لبلبے سے نکلنے والی انسولین شوگر کو بآسانی چربی میں تبدیل کردیتی ہے اور شوگر پرکنٹرول ہوجاتاہے۔
بلڈپریشر :زائد چربی وچکناہٹ سے شریانیں بند ہونے سے خون کا دورانیہ تیز ہوجاتاہےجسے بلڈپریشر کا مرض کہاجاتاہے۔روزے میں بھوک کےردعمل سے چکناہٹ کم پڑجاتی ہے جس سے رگوں پر دباؤ کم ہوجاتاہے ،اس طرح روزہ بلڈ پریشر کے مریض کوخوشیاں فراہم کرتاہے۔
جلدی امراض میں معاون:روزے کے ذریعے خون میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے ،نتیجۃً جسم میں بھی پانی کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے،جس سے جلد کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتاہےاور روزے دار کو جلدی امراض پھوڑے پھنسیوں سے نجات ملتی ہے۔
نظام انہضام :روزہ نظام انہضام کی مشینری کو راحت کا موقع فراہم کرتاہے ،جس سےقوت ہضم میں اضافہ ہوتاہے۔
نفسیاتی فوائد:روزہ جس طرح جسمانی بیماریوں سے نجات دلاتاہے، ایسے ہی نفسیاتی بیماریوں کا علاج بھی ہے۔
غصے سے نجات : طاقت ور کمزور پر اپناجبر مسلط کرتاہے ،ناجائز غصہ اس پر نکالتاہے ،لیکن روزے کی وجہ سے جب بھوک ستاتی ہے تو انسان کودوسرےکی کمزوری اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کااحساس ہوتاہے ،اس طرح روزے دار کسی پر غصہ نہیں کرتا۔
بے خوابی سے چھٹکارا:مزدورپیشہ ،زراعت پیشہ اور دیگر محنت ومشقت کاکام کرنے والے افراد کبھی بے خوابی کے مرض میں مبتلانہیں ہوتے ،ہمیشہ سکون کی نیند سوتےہیں ،وجہ ظاہر ہے ،ایسے ہی روزے دار بھی بھوک نماز،روزہ ،تراویح اور تلاوت قرآن جیسے اعمال صالحہ میں دن بھر مشغول رہتاہے،جس کی برکت سے بے خوابی جاتی رہتی ہےاور روزے دار سحری تک میٹھی نیند سوتاہے۔
تہذیب نفس،قوتِ ارادی میں اضافہ:روزے کی حالت میں انسان صبروتحمل جیسی صفات ِالہٰیہ کی مشق کرتاہے ،جس سےاس کانفس سنورتاہے ،قوتِ فکر وقوت ارادی میں ترقی ہوتی ہے،پریشانیاں اور مشقت جھیلنے کی عادت بن جاتی ہے۔
تمباکو نوشی اور منشیات سے نجات:ایک روزے دار مسلمان کے لیے منشیات کی عادت سے چھٹکاراحاصل کرنا دیگر ادیان کے پیروکاروں کی بہ نسبت انتہائی آسان ہے ۔روزے کی حالت میں مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے فجر سے غروب آفتاب تک ہر قسم کی کھانے پینے کی چیز وں سےدور رہتاہے ۔سال میں 29،30 دن روٹین سے ہٹ کر گزارنے سے اتنی صلاحیت پیداہوجاتی ہے کہ وہ منشیات کو ہمیشہ کے لیے خیر بادکہہ دے۔
معاشرتی فوائد:جسمانی ونفسیاتی فوائد کے ساتھ ساتھ روزے کے معاشرتے فوائد بھی ہیں:
سماجی ومعاشرتی روابط:جس طرح نماز مسلمانوں میں سماجی روبط کا ذریعہ ہے، اسی طرح روزہ بھی ،کیونکہ عام دنوں میں ہر کسی کو ہر وقت کھانے پینے کی کھلی اجازت ہوتی ہے ،ایک ساتھ مل بیٹھ کر کھانا کھانا ،دکھ درد بانٹنا بہت کم ہوتا ہے ،اس کے برعکس رمضان کی برکتوں سے سحر وافطار میں اہل خانہ گھروں میں،مساجد اور عوامی جگہوں پر مختلف قوموں سے وابستہ مسلمان ایک دسترخواں پر بیٹھ کر سحری وافطاری کرتے نظر آتے ہیں ،اس عمل سے ناراضگیاں محبتوں میں اور دوریاں قربتوں میں بدل جاتی ہیں۔
نظم وضبط : رمضان کی مبارک ساعتیں مسلمانوں کے نظم ونسق کو اجاگر کرتی ہیں ،کرۂ ارض پر موجود تمام مسلمانوں کے کھانے پینے کے اوقات منظم ہوجاتے ہیں ،کچھ بھی ہوجائے ہر مسلمان بچہ ،جوان ،بوڑھا ،مرد وعورت ،فجر تا مغرب ،مفطر صوم چیزوں سے اجتناب کرتاہے ،دن ڈھلنے اور مساجد کے میناروں سے صدائے تکبیر کا منتظر رہتاہے۔
غربا و مساکین کااحساس:انسان غافل ہے ،نعمتوں میں مست ہوکردنیاکی رعنائیوں میں کھو جاتاہے ،روزے کی حالت میں جب بھوک ستاتی ہے تو فقیر ولاچارلوگوں کی تکالیف کا احساس زندہ ہوتاہے اور ان کاہاتھ بٹانے کاولولہ وجذبہ پروان چڑھتاہے ،یہی وجہ ہے کہ بعض مال دار لوگ دوسرے مہینوں کی بہ نسبت رمضان میں صدقہ وخیرات اور زکوٰۃ اداکرنے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں اور مستحقین تک ان کاحق پہنچانے میں بھرپورکردار اداکرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *