’دہشتگردی سے نہ بھارت کا بھلا نہ پاکستان کا‘

Image caption

نریندر مودی کو حال ہی میں ان کی پارٹی نے آئندہ عام انتخابات کے لیے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا ہے

بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آئند عام انتخابات میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد امیدوار نریندر مودی نے کہا ہے کہ ’سرحد پار دہشت گردی‘ سے نہ تو بھارت کا بھلا ہوگا اور نہ ہی پاکستان کا۔

دہلی سے متصل ریاست ہریانہ کے علاقے ریواڑي میں اتوار کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کو آپس میں لڑنے کی بجائے غربت اور ناخواندگی سے لڑنا چاہیے۔

انہوں نے ایک بار پھر پاکستان پر ’دہشتگردی کو فروغ دینے‘ کا الزام لگایا۔

بھارت کی برسر اقتدار یو پی اے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت ووٹ بینک کی سیاست میں لگی ہوئی ہے۔

ریواڑي میں فوج کے سابق جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ’بھارت نے جتنے جوان جنگ میں گنوائے ہیں ، اس سے کہیں زیادہ جوان دہشت گرد اور نکسلی تشدد میں گنوائے ہیں۔‘

پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کچھ ملک دہشت گردی کے خلاف مخصوص کارروائی کرتے ہیں جو ان کی داخلی سیاست کے مطابق ہوتی ہے، لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔‘

Image caption

مودی پر سنہ 2002 میں گجرات میں ہونے والے فسادات کو نہ روکنے کا الزام ہے

انہوں نے کہا ’پاکستان میں جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی آمد کے بعد ایک امید تھی کہ وہ بھارت کے خلاف احتجاج کی سیاست چھوڑ کر ایک دوست ملک کے طور پر کام کریں گے، لیکن سرحد پر جس طرح سے ہمارے فوجیوں کو ہلاک کردیا گیا اس سے لگتا ہے کہ پاکستان کے ارادے نیک نہیں ہیں۔‘

واضح رہے کہ حال میں کنٹرول لائن پر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی رہی ہے جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’آج ملک میں فوج کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے ہمارے ملک کی نوجوان نسل فوج میں جانا نہیں چاہتی ہے۔ یہ ملک کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔‘

انہوں نے ملک میں دفاعی صنعت کی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب جنگ میدان میں نہیں لڑی جا رہی ہے اور اس ضمن میں انہوں نے بطور خاص سائبر چیلنجوں کا ذکر کیا۔

یاد رہے کہ مودی کو اسی جمعہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیراعظم کے عہدہ کا امیدوار نامزد کیا ہے تاہم ان کی نامزدگی پر بی جے پی کے سینیئر رہنما ایل کے اڈوانی کی ناراضگی کو دور نہیں کیا جا سکا ہے۔


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*