آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدل لی ، اسد عمر نے پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی


پشاور(این این آئی) وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدلی ہے عنقریب اچھا معاہد ہ ہوگا ،پاکستان کو کسی نے باہر سے آکر ٹھیک نہیں کر نا ، ہم ہی ٹھیک کرینگے ، بہتر فیصلے کریں گے تو معیشت اٹھے گی ، یہ صرف سرمایہ کاری سے ہوگا، باتیں بہت ہو گئی ہیں اب کام شروع کر ناہے ،ٹیکس نیت کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہے اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا۔پیر کو پشاور میں سرحد چیمبر آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ آئی ایم

ایف اور پاکستان کے اعدادو شمار کے فرق میں کمی آئی ہے، آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدلی ہے، ان سے اچھا معاہدہ ہوگا اور لگتا ہے کہ معاہدے کے قریب آگئے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاہدے کو آخری بنائیں۔وزیر خزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف سے پاکستان کی معیشت کیلئے اقدامات پر اتفاق رائے ہوا، وزیراعظم نے کہا آئی ایم ایف سے معاہدے پر دستخط کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی نے باہر آکر ٹھیک نہیں کرنا، ہم ہی اسے ٹھیک کریں گے، ہم بہتر فیصلے کریں گے تو معیشت اٹھے گی اور یہ صرف سرمایہ کاری سے ہوگا۔اسد عمر نے کہا کہ باتیں بہت ہوگئیں اب کام شروع کرنا ہے، ٹیکس نیت کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہے اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کے چھاپوں اور اور آڈٹ سے ٹیکس نہیں بڑھے گا، کوشش ہے کہ چھوٹے تاجر کیلئے انتہائی آسان سسٹم لائیں جو ایک صفحے کا ہو اور سال میں ایک مرتبہ ٹیکس جمع کرانا ہوگا، وہ سسٹم اسلام آباد میں کامیاب ہوگا جس کے بعد ملک بھر میں نافذ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگلے بجٹ میں خواہش ہے کہ تمام لوگوں کے لیے ٹیکس فارم میں آسانی پیدا کی جائے اور جمع کرانے کے طریقہ کار میں بھی آسانی ہو۔ابھی اس کام کی ابتدا ہے، آگے مزید چیزیں بہتر کریں گے جو آئندہ بجٹ میں ہوگا۔اسد عمر نے کہا کہ چیمبر کے لوگوں کے سوال سے لگتاہے کہ پشاور کے کچھ لوگ تحریک انصاف سے خوش نہیں لیکن اب یہ پی ٹی آئی کا شہر بن گیا ہے، اس کا وزیراعظم پر زیادہ حق ہے۔وزیرخزانہ نے کہا کہ الگ سے ٹیکسٹائل منسٹر کیلئے وزیراعظم سے بات کروں گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ انڈسٹری میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے۔سال میں دو ماہ ایسے ہوتے ہیں جس میں کے پی سے گیس نہیں آتی، ٹاپی گیس منصوبہ ختم نہیں ہوا اس پر کام جاری ہے۔اس موقع پر انہوں نے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پہاڑوں پر انڈسٹری نہیں لگ سکتی لہٰذا یہاں کے مقامی لوگوں کو گھروں کے پاس نوکریاں اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سیاحت کو فروغ دیں۔اسد عمر نے کہا کہ ہم سب نے دنیا دیکھی ہے اور اتنے خوبصورت مقامات دنیا میں کہیں بھی نہیں ہیں خصوصاً خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان اللہ تعالیٰ کی خصوصی دین ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ملائیشیا کی سیاحت سے سالانہ آمدن 22ارب ڈالر ہے، ترکی 44ارب ڈالر ہے اور اسی وجہ سے وزیر اعظم سیاحت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جس سے ملک میں آمدنی بھی آئیگی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *