آئی ایم ایف حکام نے پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)سے متعلق کیا کہا ؟ قرضہ کس صورت میں دیا جائے گا ؟ پاکستان اور چین سے تحریری ضمانت مانگ لی


اسلام آباد(اے این این ) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر دورہ امریکا کے بعد وطن واپس پہنچ گئے، انھوں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کر کے اپنے دورے اور آئی ایم ایف پیکج کے بارے میں بریفنگ دی۔اسد عمر نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں ہونے والی ملاقاتوں کی رپورٹ دی ۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان کا شیڈول طے نہ ہوسکا، چند روز میںمذاکرات کے شیڈول کا اعلان کیا جائیگا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریق مجوزہ مذاکرات پر ایک اہم بات چیت میں
مصروف ہیں، جس کی وجہ سے بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دینے کے لیے وفد کے اسلام آباد آنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ دونوں فریق اب بھی مکمل معاہدے کی حتمی تفصیلات پر سخت مذاکرات میں مصروف ہیں، لہذا آئی ایم ایف کے مشن کا اپریل کے بجائے مئی میں اسلام آباد کے دورے پر آنے کا امکان زیادہ ہے۔ادھر پاکستان-آئی ایم ایف مذاکرات سے جڑے ایک اور عہدیدار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو اب بھی جون سے پہلے معاہدہ مکمل ہونے کی امید ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ بیل آؤٹ پیکج بجٹ کے حوالے سے مدد دے گا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف حکام نے پاک-چین اقتصادی راہداری(سی پیک)کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، ساتھ ہی پاکستان اور چین دونوں سے تحریری ضمانت مانگی ہے کہ آئی ایم ایف کی امداد چین کے قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔مذکورہ ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیر خزانہ اسد عمر کا سی پیک پر آئی ایم ایف کے تحفظات سے متعلق بات چیت کے لیے 25 اپریل کو دورہ چین کا امکان ہے اور بین الاقوامی مانیٹری فنڈ بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دینے سے قبل وزیر خزانہ کو سننے کا انتظار کرے گا۔علاوہ ازیں دونوں فریق مجوزہ آئی ایم ایف پروگرام کی تفصیل پر فائن ٹیوننگ میں مصروف ہیں، پاکستان چاہتا ہے کہ آئی ایم ایف پیکج سے جڑی کچھ شرائط کا جائزہ لے جبکہ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ یہ شرائط پروگرام کی کامیاب تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔پاکستان نقطہ اٹھاتا ہے کہ اگر یہ حتمی صورت اختیار کرلیتے ہے تو یہ آئی ایم اے ساتھ اس کا 14 واں پیکج ہوگا، تاہم اس کا اعتراض یہ ہے کہ گزشتہ پروگرامز سے منسلک شرائط پر بھی مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا کیونکہ یہ بہت زیادہ محدود تھیں۔اسلام آباد آئی ایم ایف سے چاہتا ہے کہ پروگرام کو شرائط سے منسلک ہونے کے بجائے طویل مدتی تعمیری اصلاحات پر توجہ رکھنی چاہیے تاکہ اس کی معیشت کی بحالی میں مدد ملے کیونکہ شرائط پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔نئے پیکج پر مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے آئی ایف ایم کو کہاکہ وہ اس پر وعدہ نہیں کریں گے جس پر وہ عمل درآمد نہیں کرسکتے۔اس بارے میں جب پوچھا گیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے کتنی رقم ملنے کا امکان ہے تو ذرائع کا کہنا تھا کہ رقم اور پروگرام کا دورانیہ بھی پیکج کی نوعیت پر منحصر ہے، اگر شرائط بہت زیادہ محدود ہوئی تو پاکستان بڑے پیکج کی توقع کرسکتا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ کچھ شرائط میں اسٹیٹ بینک کو خودمختار بنانا، مارکیٹ پر مبنی ایکسچیج ریٹ، ٹیکس ہدف کو 5 ہزار ارب روپے تک بڑھانا، انکم ٹیکس رعایت کو ختم کرنا، تنخواہوں پر مزید ٹیکس لگانا، قابل ٹیکس آمدنی کی رقم کو 12 لاکھ سالانہ سے کم کرکے 4 لاکھ سالانہ کرنا، بجلی اور گیس نقصانات کو کم کرنا، نیپرا اور اوگرا کی پالیسیز میں حکومتی مداخلت نہ ہونا اور بجلی اور گیس ریونیو کے 140 ارب روپے خسارے کو صارفین سے وصول کرنا شامل ہے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *