اقراء – کیا لفظ’’آزاد‘‘سے طلاق ہوجاتی ہے؟ – Magazine

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ احمد نے اپنی بیوی سے مذاق میں کہا کہ میری طرف سے تم آزاد ہو، اس آزاد سے مراد یہ تھی کہ بیوی کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اس پر احمد کی نیت طلاق کی نہیں تھی اوراس نے بات بھی مذاق میں کی تھی، سنجیدگی یا غصے میں بات نہیں تھی،ازروئے شریعت اس حوالے سے وضاحت فرمادیں۔(محمد فیصل، اسلام آباد)

جواب: لفظ ’’ آزاد‘‘ ہمارے عرف میں طلاق کا لفظ ہے اوراس مقصد کے لیے بالکل صاف اورصریح ہے۔صریح کامطلب یہ ہے کہ عام طور پریہ طلاق دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔جو لفظ اس قسم کا ہو، اس میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس کاعام استعمال ہی نیت کا قائم مقام ہوتا ہے۔بناءبرایں جب شوہریہ لفظ زبان پر لایاتو اس نے اپنی منشاء کوخود ہی اس لفظ کے ذریعے بیان کردیا ہے ،اب اس کی نیت ٹٹولنے کی اورمنشا دریافت کرنے کی ضرورت نہیں ،کیونکہ جوکچھ کہنا تھا ،وہ اس نے صاف اورواضح لفظوں میں کہہ دیا ہے۔ 

شوہر کایہ عذر بھی قابل قبول نہیں ہے کہ اس نے مذاق میں اس لفظ کا استعمال کیاتھا ، کیونکہ طلاق کے معاملے میں سنجیدگی اور مذاق برابر ہیں ،دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجاتی ہے۔جوطلاق واقع ہوئی ہے، اس سے رشتہ زوجیت ختم ہوگیا ہے ،کیونکہ شرعی زبان میں یہ لفظ بائن ہے۔اب حکم یہ ہے کہ عدت میں یا عدت کے بعد دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے اورآیندہ شوہر کو دوطلاقوں کاحق ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

مولاناڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر سے مزید

اقراء سے مزید

مسائل سے مزید




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*