اقراء – لاؤڈ اسپیکر کی آواز بلاضرورت بلند کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟ – Magazine


لاؤڈ اسپیکر کی آواز بلاضرورت بلند کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟


تفہیم المسائل

سوال: سڑکوں گلیوں وغیرہ کو بند کر کے انتہائی تیز آواز میں رات گئے تک محافلِ نعت ومختلف اجتماعات وغیرہ کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟، جبکہ علماء سے سنا ہے کہ اگر قرآن پاک کی تلاوت بھی اتنی آواز سے کی جائے کہ جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہو تومنع ہے۔ تو کیامحافل واجتماعات کے مروجہ طریقے سے لوگوں کو تکلیف نہیں ہوتی اور اگر ہوتی ہے تو کیا مستحب عمل کے لئے شاہراہوں کو بند کر دینا ،رات گئے تک انتہائی تیز آواز میں اسپیکرز کا استعمال کرنا جائز ہے؟۔اسی طرح سڑک پربیت اللہ شریف اور گنبدِ خضرا کے ماڈل سجائے جاتے ہیں، جس سے دکاندار ، ٹریفک اورپیدل چلنے والے بھی متاثر ہوتے ہیں،توکیا لوگوں کو تکلیف پہنچانا گناہ نہیںہے اور کیا یہ بہتر نہیںکہ اجتماعات ومحافل مساجد ومدارس یا کسی ہال یا پارک وغیرہ میں کئے جائیں؟۔ واضح اور آسان ترین الفاظ میں جواب ارشاد فرمائیں،(حافظ محمد عامر ،سید سلیم شاہ عطاری، کراچی)

جواب: اہلسنت وجماعت کے نزدیک محافلِ قراءت اور محافلِ حمد ونعت کا انعقاد مستحب ومستحسن امر ہے ،بشرطیکہ ادب واحترام کو ملحوظ رکھا جائے ۔ان محافل کے لئے سڑکوں اور شاہراہوں کو بند کرنا درست نہیں ہے ،کیونکہ سڑکوں اور شاہراہوں پر سب لوگوں کا حق مساوی ہوتا ہے ،جسے فقہ کی اصطلاح میں ’’حقِّ مرور‘‘(Right of Passage)کہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے سڑک اور شارع عام پر نمازِجنازہ کو ،جوکہ فرض ِ کفایہ ہے، مکروہ قرار دیا ہے ، علامہ نظام الدین رحمہ اللہ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’اور شارع عام پر اور لوگوں کی ملکیتی زمین پر(ان کی اجازت ومنظوری کے بغیر) نماز جنازہ پڑھنا مکرو ہ ہے ،’’مضمرات‘‘ میں اسی طرح ہے ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد1،ص: 165)‘‘۔

اس کراہت کا سبب یہ ہے کہ نمازِ جنازہ کے وقت سڑک بند ہوجاتی ہے اور ٹریفک رُک جاتی ہے اور سب کا حق متاثر ہوتا ہے اور بعض اوقات نجاست بھی ہوتی ہے ۔جب فرضِ کفایہ کے لئے سڑک بند کرنے کی ممانعت ہے ،حالانکہ اس کے لئے وقت بھی کم درکار ہوتا ہے ،تو مستحب اور مباح امورکے لئے بطریقِ اولیٰ ممانعت ہوگی ۔پارکوں اور کھلے میدانوں میں متعلقہ ادارے کی اجازت سے ایسی مجالس کے انعقاد میں کوئی حرج نہیں ہے ۔محافلِ میلاد، مجالسِ سیرت اور محافلِ نعت میں لاؤڈ اسپیکر کی آواز کواتنا بلند رکھنا کہ قرب وجوار کے لوگوں کے لئے باعثِ تکلیف ہو ، درست نہیں ہے ۔کیونکہ رات گئے تک ان مجالس کے جاری رہنے سے لوگوں کی نیند میںخلل واقع ہوتا ہے ،کچھ لوگ بیمار ہوتے ہیں ،کچھ لوگ اپنے مطالعے اور امتحانات کی تیاری میں مشغول ہوتے ہیں ، ایسا کرناان کو ’’اذّیت ‘‘ دینے کے زمرے میں آتا ہے اور اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ِ مبارکہ یہ ہیں :

(۱)ترجمہ:’’(مومن کو چاہئے)نہ خود نقصان اٹھائے اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچائے،(سنن ابن ماجہ :2340,2341)‘‘۔

(۲)حضرت ابوسعیدخدری رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ترجمہ:’’راستوں میں بیٹھنے سے بچاکرو، صحابہؓ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! اس کے بغیرتوہمارے لئے چارۂ کارہی نہیں ہے ،یہ ہماری مجالس ہیں،جہاں ہم (بیٹھ کر) گفتگو کرتے ہیں،(آپ ﷺ نے) فرمایا: توراستے کو اس کاحق دیاکرو ،انہوں نے عرض کیا،یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم ! راستے کا حق کیاہے؟ آپ ﷺ فرمایا: (غیر محرم خواتین سامنے آئیں تو) نظر نیچی رکھنا،کسی بھی ایسی چیز کو راستے سے ہٹا دینا جو آنے جانے والوں کے لئے اذیت کا باعث ہو ،کوئی سلام کرے تو اس کاجواب دینا، اچھے کاموں کا حکم دینا اوربرے کاموں سے روکنا،(صحیح بخاری :6229)‘‘۔

(۳)ترجمہ:’’حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:’ ’اے اللہ کے نبی ﷺ! مجھے ایسی چیز بتایئے جس سے میں نفع حاصل کروں ، آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز دور کردو ،(صحیح مسلم : 6616)‘‘۔

(۴)ترجمہ:’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایمان کے ستّر یا ساٹھ سے کچھ زیادہ شعبے ہیں ،جن میںسے سب سے افضل کلمۂ طیبہ کا اعتقاد ہے، اور سب سے ادنیٰ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کردینا ہے اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے ،(صحیح مسلم : 152)‘‘۔ (۵)ترجمہ:’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:(کوئی شخص) راستے سے (لوگوں کو)تکلیف پہنچانے والی چیز کو ہٹاتاہے، (تویہ بھی) صدقہ ہے،(صحیح بخاری :2466)‘‘۔

لہٰذادینی مجالس میں لاؤڈاسپیکر کی آوازکو صرف اُن لوگوں تک محدود رکھا جائے جو ارادتاً حصولِ ثواب کے لئے ان مبارک مجلسوں میں شرکت کے لئے آتے ہیں ۔ہمیں ایسا طرزِعمل اختیار کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے، جس سے لوگوں کے ذہنوں میں بلاسبب دین اور اہلِ دین کے بارے میں بدگمانی اور نفرت پیدا ہو۔بیت اللہ اور روضۂ رسولﷺ کی شبیہ بنا کر شاہراہوں اور چوراہوں پر نصب کرنا مباح ہے، نہ منع ہے اور نہ شریعت کا مطلوب ہے۔ لیکن شبیہ کا حکم اصل کا نہیں ہوتا، اگر کوئی اصل کے مرتبے میں سمجھ کر اِسے نصب کرے یا وہاں حاضری کو عبادت سمجھتا ہو،تویہ بدعت اور شریعت میں اپنی طرف سے زیادتی ہے۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

مفتی منیب الرحمٰن سے مزید

اقراء سے مزید

مسائل سے مزید





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *