اقراء – شوال ، ذیقعدہ ، ذی الحجہ کے ابتدائی دنوں میں عمرہ ادا کیا جاسکتا ہے یانہیں؟ – Magazine


شوال ، ذیقعدہ ، ذی الحجہ کے ابتدائی دنوں میں عمرہ ادا کیا جاسکتا ہے یانہیں؟


تفہیم المسائل

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : شوال ، ذیقعدہ ، ذی الحجہ کے ابتدائی دنوں میں عمرہ ادا کیا جاسکتا ہے یانہیں؟، وضاحت کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں۔(محمد طلحہ ،کراچی)

جواب: علامہ نظام الدینؒ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’عمرے کا وقت غیر قارن (جس نے حج وعمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا ہو)کے لئے سارا سال ہے، سوائے پانچ دنوں کے (یعنی 9تا13ذوالحجہ)،مگر جس نے حجِ قِران کا احرام باندھا ہووہ ان دنوں میں بھی عمرہ ادا کر سکتا ہے ، فتاویٰ قاضی خان میںبھی اسی طرح ہے اور یہ یوم عرفہ ، یوم النحراور(دیگر) ایامِ تشریق ہیں،(فتاوی عالمگیری ، جلد:1،ص:237، مطبوعہ: مکتبۂ رشیدیہ ،کوئٹہ)‘‘۔

علامہ عبدالرحمن جزیری لکھتے ہیں :ترجمہ:’’(میقات (وقت مقررہ)ظرف کا صیغہ ہے اور ظرف زمانی بھی ہوتا ہے اور مکانی بھی ،عمرے کے لئے ایک میقات زمانی ہے ،جو پورا سال ہے، لہٰذا سال کے تمام اوقات میں عمرہ بغیر کسی کراہت کے جائز ہے اور ایک میقاتِ مکانی ہے،پس جہاں تک میقاتِ مکانی کا تعلق ہے، توعمرہ کے لئے بھی میقات وہی ہے، جو حج کے لئے ہے،(الفقہ علیٰ مذاھب الاربعہ،جلد:1،ص:685)‘‘۔

ترجمہ:’’حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ(زمانۂ جاہلیت میں ) لوگ یہ گمان کرتے تھے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا زمین پر سب سے بڑا گناہ ہے اور وہ محرم کے مہینے کو صفر قرار دیتے تھے ،وہ کہتے تھے کہ جب اونٹنیوں کی پیٹھیں اچھی ہوجائیں اور راستے سے حاجیوں کے نشانِ قدم مٹ جائیں اور صفر کا مہینہ ختم ہوجائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ حلال ہوجاتا ہے ۔جب ذوالحج کی چار تاریخ کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ احرام باندھے ہوئے مکہ میں آئے، تو آپ ﷺنے حکم دیا کہ اس احرام کو عمرے کے احرام میں تبدیل کردو ،صحابۂ کرامؓ پر یہ بات گراں گزری ،انہوں نے پوچھا یارسول اللہﷺ! ہم کس طرح حلال ہوں ،فرمایا : پورے حلال ہوجاؤ ،(صحیح مسلم ،جلد1،ص:406،407،ایچ ،ایم سعید کمپنی ،کراچی )‘‘۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سارے سال حتیٰ کہ شوال ، ذیقعدہ، یا ذی الحج کے ابتدائی دنوں میں بھی بغیر کسی کراہت کے عمرہ ادا کیا جاسکتا ہے اور شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

[email protected]

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

مفتی منیب الرحمٰن سے مزید

اقراء سے مزید

مسائل سے مزید





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *