اقراء – ’’سفرِ حج‘‘ عشق و بندگی کا عظیم مظہر – Magazine


’’سفرِ حج‘‘ عشق و بندگی کا عظیم مظہر

مفتی غلام مصطفیٰ رفیق

حج درحقیقت ایک عاشقانہ سفرہے،اس کی ظاہری صورت بھی عجیب وغریب ہے،اوراس میں غضب کی جاذبیت ہے۔قدم قدم پرعشق ومحبت کی پُربہارمنزلیں طے ہوتی ہیں،حج کے افعال واعمال مظاہرعشق ہیں،اسی عاشقانہ بنیادکی وجہ سے اس کے افعال واعمال عقل وفہم میں آئیں یانہ آئیں،انہیں اداکیاجاتاہے۔

اس میں کسی قسم کی کوتاہی،غفلت یاسستی نہیں برتی جاتی ،چناںچہ تمام انبیائے کرامؑ،صحابہ کرامؓ،بزرگان دین اوراہل ذوق ومحبت نے بھی ٹھیک اسی طرح بےچوں چرا انہیں اداکیاہے اوریہی عبدیت کے شان کے لائق ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جب تک حاجی اپنی عقل وفہم،پسندوناپسندکوحکم الٰہی پرقربان کرنانہ سیکھے یاجب تک یہ جذبہ پیدانہ ہو،وہ حج نہیں کرسکتا۔

اس لئے کسی کی عقل وفہم میں یہ کیونکرآسکتاہے کہ وہ دنیاکی تمام آسائشوں،آرام،راحت وسکون کوترک کرکے کفن نمادوچادریں لپیٹ کردیوانہ وارعشقیہ ترانہ(میں حاضرہوں،اے میرے اللہ!میں حاضرہوں)پڑھتے ہوئے گھرسے نکل پڑے، یہاں تک کہ اپنے گھربار،عہدہ،منصب،مکان و دکان ، عیش وآرام تک کی کوئی پروا نہ رہے،صرف یہی نہیں بلکہ ایک چار دیواری کے گرد دیوانہ وارچکرلگاتاپھرے۔آیئے، اس سفرِعشق کی ایک جھلک دیکھتے ہیں۔

دلائل وبراہین بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہرجگہ موجودبلکہ شہ رگ سے بھی زیادہ قریب اوراپنے بندے کی ہر صداکوہرجگہ سے سنتا ہے،جواب دیتا اور قبول کرتا ہے،پھراُسے بچوں اورملک ووطن سے کیوں دورکیاجاتاہے؟

مگرعشق کہتاہے کہ مالک کابلاوا اور محبوب ومعشوق کی چاہت ہے اس کے بلاوے پرضرورجائیں گے،اورسفربھی اپنی مرضی سے نہ ہوگا،بلکہ معشوق نے جس کیفیت وہیئت بناکرآنے کامطالبہ کیاہے،اس کے اپنانے کواپنے لئے باعث عزت وافتخارسمجھیں گے۔

پھریہ بات بھی قابل غورہے کہ عام حالات میں کوئی مہذب وباحیا مسلمان اپناپسندیدہ لباس اتارکرکفن کی دوچادروں کے ساتھ کسی سنجیدہ محفل واجتماع میں جاناتودرکنارگھرسے باہرنکلنابھی گوارانہیں کرتا،مگرجب حاجی کو اپنے محبوب رب کی جانب سے اس طرزلباس کواپنانے کاحکم ملتاہے تووہ اپنے تمام تقاضوں کوبالائے طاق رکھ کراسےسرمایۂ افتخارسمجھتے ہوئے دنیابھرکے بڑے اجتماع میں جانے پرآمادہ ہوجاتاہے،اورعملی طورپروہاں پہنچ جاتاہے۔

پھرحرم کی ایک نیکی پرلاکھ کااجرملتاہے،اوربیت اللہ میں ہروقت نازل ہونے والی ایک سو بیس رحمتوں میں سے ساٹھ رحمتیں طواف کرنے والوں،چالیس نماز پڑھنے والوں،اور بیس دیکھنے والوں کے حصے میں آتی ہیں،توعقل کاتقاضا یہ ہے کہ ہروقت بیت اللہ میں رہتے ہوئے اس کاطواف ،نمازیں اوراس کے دیدار کی سعادت حاصل کی جاتی رہے،مگرہم دیکھتے ہیں کہ بیت اللہ کوخیربادکہہ کرمنیٰ کی سنگلاخ وادی میں چلے جانے وہاں سے عرفات،مزدلفہ کے لق دق صحرامیں رات گزارنے کاحکم ملتاہے،ایساکیوں ہے؟

توعقل کے برعکس عشق کہتاہے کہ اس میں مولیٰ کی رضاہے جب تک بیت اللہ میں رہنے کاحکم تھاوہی عبادت تھی،جب منٰی،عرفات،مزدلفہ جانے کاحکم ملااب یہی سب سے بڑی نیکی اور اللہ کے حکم کوبجالاناہے،اورحکم کی بجاآوری ہی حقیقی اطاعت وعبادت ہے۔

غرض حج عشق ومحبت اور تسلیم و رضا کانام ہے،اسےعقل وفہم،ادراک وشعور،ذوق ومزاج کے پیمانوں سے نہیں ناپاجاسکتااورنہ ہی اس پراللہ تعالیٰ کی عطا و عنایات بے پایاں کااندازہ کیاجاسکتاہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

میگزین ڈیسک سے مزید

اقراء سے مزید

اسلام سے مزید





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *