اقراء – رکعات رہ جانے پر امام کے ساتھ غلطی سے سلام پھیرنے پر کیا حکم ہے؟ – Magazine



سوال:
جس نمازی کی ایک یا چند رکعات جماعت سے رہ گئی ہوں ، وہ امام کے ساتھ سلام پھیردے تو کیا حکم ہے ؟(محمدرمیز،کراچی)

جواب: مسبوق مقتدی کے سلام پھیرنے کی چند صورتیں ہیں: (۱) اس نے یہ گمان کرتے ہوئے دانستہ سلام پھیرا کہ اُسے امام کے ساتھ سلام پھیرنا ہے، تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔(۲)اُس نے بھول کر امام سے پہلے یا امام کے ساتھ سلام پھیرا ،تو اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہے ،کیونکہ وہ ابھی امام کی اقتدا سے خارج نہیں ہوا اوراقتدا میں رہتے ہوئے مقتدی سے ایسی خطا ہوجائے ،جو سجدۂ سہو کا موجب ہے ،تو اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہے ۔ (۳) اس نے بھول کر امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیرا ،تو اس پر سجدۂ سہو لازم ہوگا،کیونکہ امام کے سلام پھیرتے ہی وہ امام کی اقتدا سے باہر آگیا اور اب وہ منفرد کے حکم میں ہے ، فقہی دلائل درج ذیل ہیں:تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے :’’اور اگر( مسبوق نے)بھول کر سلام پھیردیاتواگر اس نے امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیراہے، تو اس پر سجدۂ سہو لازم ہے اور اگراس نے بھول کرامام کے ساتھ سلام پھیرا ہے ، تواس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہے ‘‘۔اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اور اگر مسبوق نے بھول کر سلام پھیرا، یہاں بھولنے کی قید لگائی ہے ،کیونکہ اگر اس نے یہ گمان کر کے سلام پھیرا کہ اُسے امام کے ساتھ بھی سلام پھیرنا چاہیے ،تو یہ قصداً سلام پھیرنا ہے ،تو اس سے اُس مسبوق مقتدی کی نمازفاسد ہوجائے گی ، جیساکہ ’’البحرالرائق ‘‘ میں ’’ظہیریہ‘‘کے حوالے سے ہے۔ علامہ حصکفی کا یہ کہنا کہ مسبوق مقتدی اگر امام کے سلام پھیرنے کے بعد بھول کرسلام پھیرتاہے ،تواُس پر سجدۂ سہو اس لیے لازم آئے گا کہ اب وہ منفردکے حکم میں ہے ۔

علامہ حصکفی کا یہ کہنا کہ اگرمقتدی نے بھول کر امام کے ساتھ یا اس سے پہلے سلام پھیراہے ، تو اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہے، کیونکہ ان دونوں حالتوں میں وہ بدستور مقتدی ہے(اور مقتدی کی خطا سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا) ۔ ’’شرح المنیہ‘‘ میں ’’محیط‘‘کے حوالے سے ہے :’’ اگر مسبوق مقتدی نے بھول کر امام کے ساتھ سلام پھیراتو اُس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہے، کیونکہ وہ حالتِ اقتدا میں ہے ،اور اگراس نے امام کے بعد سلام پھیرا تو اس پر سجدۂ سہو لازم ہوگا ،کیونکہ اب وہ منفرد ہے(یعنی امام کے سلام پھیرتے ہی اقتدا سے باہر آچکا ہے)،(جلد3، ص:651، دمشق)‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

مفتی منیب الرحمٰن سے مزید

اقراء سے مزید

مسائل سے مزید





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *