اقراء – حصولِ علم۔۔۔ شرفِ انسانی کا سبب ایک مقدس دینی فریضہ – Magazine


حصولِ علم۔۔۔ شرفِ انسانی کا سبب ایک مقدس دینی فریضہ

مولانا حافظ عبد الرحمٰن سلفی

اللہ رب العالمین نے انسان کو تمام مخلوقات پر فضیلت و برتری عطا فرمائی تو ا س کا سبب علم اور اس کا شعور و آگہی ہے جو کسی اور مخلوق کوعطا نہیں کیا گیا۔ یہ محض انسان ہی تھا جسے خالق کائنات نے علم کی دولت سے اس وقت نواز دیا تھا جب یہ تخلیقی مراحل سے گزررہا تھا، جبکہ دیگر مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے اس عزت و شرف سے محروم رکھا، یہی وجہ ہے کہ انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے ،حالانکہ تخلیق آدم کے موقع پر فرشتوں نے عرض کیا تھاکہ یااللہ، ہم تیری تسبیح بیان کرنے والے ہیں، جیساکہ قرآن مجید میں ہے۔ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا،اے پروردگار، ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں خون بہائے اور ہم تیری حمد اور پاکیزگی اور تسبیح بیان کرنے والے ہیں اللہ (تعالیٰ) نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور اللہ (تعالیٰ) نے آدم (علیہ السلام) کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہوتوان چیزوں کے نام بتائو ان سب نے کہا یااللہ تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتناہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا رکھا ہے تو ہی جاننے والا حکمت والا ہے تو اللہ نے آدم (علیہ السلام) سے فرمایا تم ان کے نام بتادو جب انہوں نے نام بتا دیئے تو اللہ نے فرمایا کیا میں نے تم سے پہلے ہی نہیں کہاتھا کہ زمین و آسمان کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے ہی علم میں ہے جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔(سورۃ البقرہ آیت ۳۰ تا ۳۳)

یہ عزت و شرافت اور فضیلت و بزرگی سیدنا آدم علیہ السلام کو علم کی بدولت ملی۔ معلوم ہوا کہ زمین و آسمان میں علم سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء ورسل کو اپنا خاص علم مرحمت فرمایا جس سے ساری دنیا منور ہوئی اور علم کی روشنی سب کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ملی۔ اسلامی تعلیمات کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو علم کی حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کیونکہ سرور ِکائنات ﷺپر جو پہلی وحی نازل ہوئی، وہ علم ہی کے بارے میںتھی۔ اللہ رب العالمین نے سب سے پہلےآپ ﷺکو دوسرا کوئی پیغام نہیں دیا، بلکہ پہلی نصیحت ہی علم کے بارے میں کی چونکہ علم و آگہی سے شعور کی راہیں کھلتی ہیں اور جب انسان باشعور ہو جاتاہے تو وہ معرفت حق کے حصول کا اہل ثابت ہو سکتا ہے،چونکہ پیغمبر آخر الزماں ﷺنے تاقیام قیامت آنے والی نسلوں کی رہنمائی کا عظیم فریضہ سرانجام دینا تھا لہٰذا تمام امور سے پہلے آپ ﷺکو علم سے روشناس کرایا گیا۔ چناںچہ پہلی وحی میں ارشاد ہوا۔ترجمہ: اپنے رب کا نام لے کر پڑھیے۔ جس نے پیدا کیاانسان کو خون کے لوتھڑے سے۔ آپ ﷺ پڑھتے رہیے آپ کا رب بڑے کرم والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ جانتا نہیں تھا۔(سورۃ العلق آیت ۱ تا ۵) ان آیات مبارکہ کو غور سے پڑھا جائے تو علم کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔

انسان جو پہلے نہایت کمزور مخلوق تھا، آج علم کی بدولت خشکیوں ، پانیوں اور ہوائوں پراپنے رب کے فضل سے حکومت کر رہا ہے۔ علم کے ہاتھ کل انسان کو کہاں لے جائیں گے کون پیش گوئی کر سکتا ہے۔ یہ تو صرف اللہ رب العالمین ہی جانتا ہے کہ اس کی یہ عظیم بخشش انسان کو کہاں پہنچانے والی ہے۔ چاند کی تسخیر تو اب پرانی بات ہو چکی۔ انسان ستاروں کو بھی مسخر کر لینے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ کل رب کا کرم ،علم انسان کو ستاروں کا بھی مالک بنا دے اور اس یادگار اورعجیب دن انسان قرآن مجید میں یہ ارشاد ربانی پڑھ کر حیران و ششدر رہ جائے ۔ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوںمیں اور جو کچھ زمین میںہے، سب کواللہ نے تمہارے لئے مسخرکر دیا ہے۔(سورۂ لقمان :آیت ۲۰)

آپ نے دیکھا اسلام کی نظر میں علم کا درجہ کیا ہے۔ قرآن مجید میں سورۃالعلق کی ابتدائی چار آیتوں کے سوا اگر علم کی فضیلت میں اور کچھ نہ کہا جاتا تب بھی کافی ہوتا، لیکن قرآن میں بار بار علم کی عظمت و اہمیت کونہایت دلکش پیرایوں میں جابجا پیش کیا گیاہے اور حصول علم پر انسانوں بالخصوص اہل ایمان کو راغب کیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر علم اور اہل علم کی فضیلت یوں بیان کی گئی ۔ترجمہ: آپ ﷺفرمادیجئے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے بر ا بر نہیں ہوسکتے ‘یہ تو عقل والے ہی سمجھ سکتے ہیں (یعنی عالم اورغیر عالم برابر نہیں ہیں) (سورۃ الزمرآیت ۹)

اسی طرح ایک مقام پر خشیت الٰہی کا ذریعہ بھی علم کو قرار دیا۔ترجمہ: اللہ سے توا س کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جوصاحب علم ہیں۔ بے شک، اللہ غالب اور بخشنے ولا ہے۔ (سورۃ الفاطر :آیت۲۸)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا تقویٰ اور پرہیز گاری بھی علم سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں ،چونکہ اگر ایک شخص کو اللہ کی معرفت ہی حاصل نہیں تو وہ کس طرح اللہ کا خوف اور تقویٰ اختیار کر سکتا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ضروری نہیں کہ ایک اعلیٰ ترین دنیاوی تعلیمات سے بہرہ ور شخص معرفت الٰہی سے بھی روشناس ہو۔ قرآن کی نظر میں وہی عالم ہے جسے رب تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو‘ ایسے لوگوں کو جو محض دنیاوی علوم و فنون سے واقف ہوں اہل ہنر و فن تو کہا جاسکتاہے لیکن عالم نہیں، البتہ ایک ایسا شخص جو بظاہر پڑھنا لکھنا بھی نہیں جانتا ،البتہ اہل علم کی صحبت میں رہ کر یا ان کی زبانی اللہ و رسول ﷺکے احکامات سن کر ان پر عمل پیرا رہتا ہے اور اس کے دل میں اپنے رب کی خشیت پیدا ہوتی ہے تو اسے جاہل نہیں کہا جائے گا ،بلکہ ایسے لوگ ہی اللہ کے مقرب بندے بن سکتے ہیں۔ البتہ اہل علم کی فضیلت و بزرگی اپنی جگہ واضح ہے۔درحقیقت علم تو نام ہی قرآن و حدیث کی تعلیمات کا ہے۔ جبکہ دنیاوی علوم صرف دنیا تک محدود ہیں اور انہیں دنیاوی تعمیر و ترقی کا منفعت بخش ہنر و فن ہی کہا جاسکتاہے چونکہ یہ تمام علوم دنیا تک ہی محدود ہیں جبکہ حقیقی علم یعنی قرآن و سنت معرفت الٰہی کے حصول کا سبب اور اسی کی روشنی سے دین و دنیا کی تمامتر کامیابیاں اور کامرانیاں مشروط ہیں۔ قرآنی علوم کی ضیاء پاشیوں سے ہی انسان تسخیر کائنات کی مہم جوئی میں مصرو ف ہے جو باتیں آج ہمیں سائنسی کمالات کا شاہکار معلوم ہوتی ہیں، وہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہادی کائنات محسن انسانیت ﷺکی زبان اطہر نے بصورت قرآن مجید بیان فرما دیئے۔

اسلام میں علم اور اہل علم کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے اور حصول علم پر بہت زور دیا گیا ہے ا س میں دینی و دنیاوی دونوں علوم شامل ہیں، بعض حضرات دینی و دنیوی علوم میں تفریق کرتے ہیں حالانکہ اسلام جہاں دین سیکھنے کی تعلیم دیتا ہے وہیں تسخیر کائنات کی بھی دعوت فکر دیتاہے۔

وہی علم نافع ہے جو معرفت ربانی سے ہمکنار کر دے اور وہ صرف قرآن و سنت کا ہی علم ہے بصورت دیگر دنیاوی علوم و فنون محض دنیا تک ہی محدود ہیں اگرچہ سائنسی علوم کی ترقی بھی معرفت الٰہی کا پتہ دیتی ہیں تاہم دینی علوم یااسلامی تعلیمات سے بے بہرہ ماہرین سائنس دان وغیرہ یا انسانیت کا بہت بڑا طبقہ ان ایجادات کو ذاتی کمالات جان کرپھولے نہیں سماتا اور رب کائنات کی صفت خالقیت پر غور نہیں کرتا جس کی وجہ سے وہ حقیقت کو نہیں پاتا بلکہ مادیت کے گرد گھومتا رہتا ہے۔

اسلام میں جس قدر زور حصول علم پر دیا گیا ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ کیونکہ علم کے بغیر انسان اپنے رب کو بھی نہیں پہنچا سکتا۔ دین نام ہی علم کا ہے۔ مختلف انبیائے کرام کو اللہ تعالیٰ نے بعض خصوصی علوم عطا فرمائے جن میں وہ دیگر انبیاء و رسل سے ممتاز تھے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو علم معرفت عطا فرمایا تھا جس کے ذریعے وہ لوگوں کو توحید باری تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے ،اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف علیہ السلام کو خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا تھا جس کے سبب و ہ بادشاہ اور تخت و تاج کے مالک بنے۔ جبکہ سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والتسلیم تو تمام علوم اور کمالات سے سرفرا زفرمائے گئے تھے۔ جیسا کہ فارسی کے شاعر نے کہا؎

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری

آں چہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

سیدنا یوسف علیہ السلام کو اللہ نے حسن عطا فرمایا اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مردے زندہ کرنے یا ان کی پیدائش خود معجزہ بنا کرکی گئی، اسی طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا گیا کہ جب وہ اپنا ہاتھ بغل سے نکالتے تو وہ چمک رہاہوتا ۔ یہ سب کمالات جو تمام انبیاء رسل میں فرداً فرداً عطا کئے گئے تھے۔ وہ تمام کے تمام ذات رسالت میں بدرجہ اتم موجودتھے۔سیدنا سلیمان علیہ السلام کو جہاں نبوت و بادشاہت عطا ہوئی ،وہیں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک اور نعمت یہ ملی کہ آپ کو حیوانات کی بول چال کا علم عطا ہوا۔

قرآن مجید و احادیث نبوی میں علم کے حصول اور عمل پربہت زوردیا گیاہے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ ایک عابد کی سو سال کی بے ریا عبادت سے عالم کی ایک گھڑی صحبت میںرہناافضل واعلیٰ ہے۔ چونکہ عابد کی عبادت اپنے لئے ہے جبکہ عالم کاعلم پورے عالم کو فیض یاب کرتاہے۔ آج امت مسلمہ کی زبوں حالی‘ درماندگی ‘پسماندگی کا سب سے اہم ترین سبب علمی پسماندگی ہی ہے۔ اگر بحیثیت مجموعی غور کیا جائے تومعلوم ہو گا کہ تمام اسلامی ممالک کی تعلیمی حالت انتہائی دگرگوںہے۔ اگر وہ دینی علوم سے بہرہ ور ہیں تو دنیاوی علوم سے نابلد اور اگر دنیاوی علوم کے حصول میں کسی حد کامیاب ہیں تودینی علوم سے یکسر لاتعلق، منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ دین بھی ہاتھ سے جاتا رہا اور دنیا بھی حاصل نہ ہو پائی۔ لہٰذا شدید ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو عام اور لازمی قرار دیا جائے اورتمام اسلامی ممالک اس سلسلے میں اجتماعی انقلابی اقدامات اٹھاتے ہوئے دینی و دنیاوی دونوں علوم ساتھ ساتھ نئی نسل کو منتقل کریں ۔ تحقیق و ریسرچ کے لئے منظم و مربوط کوششیں کی جائیں ،تاکہ ایک قابل ذکر تعداد میں ریسرچ اسکالر پیدا کئے جا سکیں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ جو دین ابتداء سے ہی اپنے ماننے والوں کو حصول علم کی تعلیم دیتا ہو وہ امت آج علمی میدان میں سب سے پیچھے ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو ہر طرح سے مادی وسائل سے نوازا ، لیکن ہم معمولی مسائل میں بھی اغیار کی جانب دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ہماری زبوں حالی عروج میں تبدیل ہو سکتی ہے بشرطیکہ ہمارے معاشروں میں علم کو فروغ حاصل ہو اور تحقیق کا جذبہ بیدار ہو۔ دیگر اقوام عالم جو آج ہم پر حاوی ہیں تو علم و ریسرچ کی بدولت ہیں۔ہم بھی اپنی تمامتر صلاحیتیں بروئے کار لاکر حصول علم و ریسرچ پر صرف کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ امت مسلمہ پھر بام عروج پر پہنچ جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

میگزین ڈیسک سے مزید

اقراء سے مزید

اسلام سے مزید





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *