اقراء – اسلامی ریاست میں قیادت و حکمرانی کا تصور (گزشتہ سے پیوستہ) – Magazine

ڈاکٹر حافظ محمد ثانی

(گزشتہ سے پیوستہ)

سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ نے ایک نئے طرز کی سیاسی زندگی اور مثالی طرز حکمرانی کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں دنیوی کروفر اور شاہانہ جاہ و جلال کی بجائے خلافت الٰہی کا عکس تھا اور جو شاہانہ نمود و نمائش اور شان و شوکت کا مظہر ہونے کی بجائے سادگی، فقر و درویشی، شفقت و محبت، خدمت خلق، بے لاگ احتساب اور عدل و مساوات کا آئینہ دارتھا۔

آپؐ کا اسوۂ حسنہ اور آپؐ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو امت کے لیے لائق تقلید نمونہ اور ایک روشن مثال ہے۔ آپؐ ریاستِ مدینہ کے سربراہ اور حکمرانی کی مسند پر سادگی، زہد و قناعت، عجز و انکساری، فقر و درویشی اور غریب پروری میں ایسے بلند مقام پر نظر آتے ہیں جس پر عقل حیران رہ جاتی ہے اور دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ آپؐ جس دور میں فاتح اور حکمراں کی حیثیت سے پورے عرب میں غالب اور ساری دنیا میں بلندیوں پر فائز تھے۔ اس وقت بھی آپؐ کا عجز اور سادگی، سلطانی کروفر اور شاہانہ طمطراق کے بجائے فقر و درویشی دلوں کو مسخر کرلیا کرتی تھی۔

آپﷺ کا فقر و درویشی اور سادہ طرز زندگی اسوۂ حسنہ کا ایک بے مثال اور روشن باب ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بڑھ کر محرم راز اور کون تھا، آپ فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے اس حال میں رحلت فرمائی کہ ہمارے گھر میں صرف معمولی سا جَو موجود تھا۔ میں نے اس میں سے کچھ پکا کر کھایا، وہ کئی دن چلا، حتیٰ کہ ایک دن میں نے اس کی ناپ تول کی، بس اسی دن وہ ختم ہوگیا۔(بخاری/ الجامع الصحیح، کتاب الرقاق، باب فضل الفقراء)

عالم یہ تھا کہ آپؐ نے جن کپڑوں میں رحلت فرمائی، ان میں اوپر تلے پیوند لگے ہوئے تھے، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ایک سادہ چادر اور ازاربند نکال کر دکھائے جن میں کائنات کے تاج دار، فخر موجودات، سرکار دو جہاں ﷺ نے اس دنیائے فانی سے رحلت فرمائی۔(نووی/ ریاض الصالحین، باب الزہد فی الدنیا)

یہ ایک تاریخ ساز حقیقت ہے کہ معلمِ بنی نوع آدم، محسنِ انسانیت، پیغمبرِ رحمت، حضرت محمد ﷺ کی بعثت تاریخ کے ایسے دور میں ہوئی، جب پوری دنیا میں کہیں بھی مثالی فلاحی ریاست کا وجود نہ تھا، جس کے سرکاری و انتظامی مناصب و ذرائع سے وابستہ رجال کار، دیانت و امانت، خود احتسابی، احساسِ ذمّہ داری، فرض شناسی، جواب دہی کے تصوّر سے آشنا اور اس کے ذمّہ دارانہ استعمال سے واقفیت رکھتے ہوں۔ کرۂ ارض، عالمی تہذیبیں اور اقوامِ عالم ایک مثالی، فلاحی اور منظم ریاست کے خلا کو محسوس کر رہا تھا، جس میں ریاستی امور ،سرکاری مناصب و ذرائع کو مالِ یتیم نہ سمجھا جاتا ہو، جہاں قومی و ملکی اثاثوں کو آباء و اجداد کی میراث اور ذاتی ملکیت نہ سمجھا جاتا ہو۔ بلکہ اس کی اساس خوفِ خدا، پرہیز گاری، دیانت و امانت، احساسِ ذمّہ داری، اعلیٰ اخلاقی، آفاقی اقدار اور ابدی اصولوں پراستوار ہو، سرورِکائنات، امام الانبیاء، سیّدالمرسلین، رحمۃ للعالمین، حضرت محمد ﷺ کی مثالی تعلیمات، اعلیٰ اخلاقی اقدار، بے مثال سیرتِ طیبہ اور دائمی و ابدی نمونۂ عمل، اسوۂ رسولؐ نے اس خلا کو فکری و عملی دونوں سطحوں پر پُر کیا اور عالمِ انسانیت کو ریاست و جہاں بانی کے ایسے آفاقی اصول و ضوابط عطا فرمائے، جن کی افادیت اور اخلاقی اہمیت سے انسانی تہذیب اور اقوامِ عالم کبھی بھی مستغنی نہیں ہوسکتے۔ آپؐ نے تاریخِ انسانیت میں پہلی مرتبہ میثاقِ مدینہ کی شکل میں دستورِ ریاست نافذ کیا۔ 

جس میں سرکاری مناصب و ذرائع اور وسائلِ مملکت کے ذمّہ دارانہ استعمال کو اولیت اور بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ جہاں خدا خوفی، خود احتسابی، دیانت و امانت، احساس ذمّہ داری کو ریاست و مملکت کے نظام اور قوانین میں اولیت اور بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ آپؐ نے دیانت و امانت کے اصولوں، اعلیٰ اخلاقی اقدار، اپنے کردار و عمل، مثالی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ سے ریاستِ مدینہ کو دنیا کی سب سے بڑی اور مستحکم مملکت بنا دیا، جس کی حدود دس لاکھ مربع میل سے زیادہ رقبے پر محیط تھیں، جس کے دیرپا اور ہمہ گیر اثرات عہد خلافت راشدہ اور بعد کے اسلامی ادوار میں نظر آئے۔ جس کی عظمت و شوکت کے آگے قیصر و کسریٰ کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا، جس کے سائے میں انسانیت کو عدل و مساوات، توحید کا نور، امن، رواداری، انسان دوستی، خدمتِ خلق کا مثالی جذبہ میسر آیا۔ جس کی اعلیٰ اخلاقی اقدار، مثالی تعلیمات اور دستور حیات سے آج بھی انسانیت کو مفر نہیں، اس کی اتباع اور پیروی ہی میں بنی نوع آدم کی فلاح اور نجات کا راز پوشیدہ ہے۔

سرورِ کونین، فخرِ موجودات، سرورِکائنات، حضرت محمدﷺ کی حیاتِ طیّبہ، آپؐ کی سیرتِ مبارکہ، اسوۂ حسنہ اور بے مثال قیادت پر جس قدر غور کیا جائے، آپ کی عظیم الشان شخصیت نگاہِ عقیدت کے سامنے آراستہ ہوکر سامنے آتی ہے۔ بالخصوص ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے قائد اور پہلی اسلامی فلاحی مملکت کے عظیم حکمراں کے طور پر آپ نے قیادت و حکمرانی، عدل کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، بنیادی انسانی حقوق کے تحفّظ، اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ اور قیادت و حکمرانی کا جو بے مثال نمونہ پیش فرمایا، وہ پوری انسانی تاریخ میں ہر لحاظ سے سب سے معتبر، سب سے منفرد اور سب سے بے مثال ہے۔ریاستِ مدینہ کی صورت میںاسلامی حکومت کی تاسیس عمل میں آئی، اس کے نتیجے میں جو دنیا میں سب سے بُرے تھے، وہ سب سے اچھے ہوگئے، جو لوگ بُرے کاموں کے لیے مشہور تھے، ان کے سارے کام اچھے ہونے لگے۔ خدا کی شان ہے کہ پلک جھپکتے ہی ساری دنیا میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ اس سے بہتر انقلاب نہ تاریخ نے دیکھا اور نہ اسلام سے علیحدہ ہوکر آئندہ تاریخ دیکھ سکے گی۔

مغرب کا نامور مورخ اور مشہور دانش ور ول ڈیورنٹ اپنی کتاب ’’ہیروز آف ہسٹری‘‘ میں محسنِ انسانیت، پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیﷺ کے طرزِ حکمرانی اور آپؐ کی سیادت و قیادت کے متعلق خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے:’’اگر ہم تاریخ پر اثرات کے حوالے سے تجزیہ کریں تو آپؐ کا کوئی ثانی نہیں۔ آپؐ نے جاہلیت کی دلدل میں دھنسے ہوئے لوگوں کو روحانی اور اخلاقی رفعت سے ہم کنار کیا اور کسی بھی دوسرے مصلح یا پیغمبر کی نسبت کہیں زیادہ کامیاب رہے۔ تاریخ انسانی کا شاید ہی کوئی اور آدمی کبھی اپنے خوابوں کو اس قدر بھرپور انداز میں تعبیر دے سکا۔ مغرب کے قلم کاروں میں ایک نامور شخصیت باسورتھ ا سمتھ (Bosworth Smith) کی ہے۔ وہ سیرتِ طیبہ پر اپنی تحریر کردہ تصنیف ’’محمد اور محمڈن ازم‘‘ میں لکھتا ہے:’’وہ (محمدﷺ ) دین و دنیا دونوں کے سردار تھے۔ وہی شاہ بھی تھے اور مذہبی پیشوا اور دینی رہنما بھی… وہ دلوں کے بادشاہ تھے۔ ان کی فرماں روائی لوگوں کے سرپروں پر نہیں، دلوں پر تھی۔ ایسے بادشاہوں کو کسی سج دھج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دنیا کے بڑے بڑے فرماں روا۔ سیزر، کرام ویل اور نپولین بونا پارٹ جیسے آمر حکمران اپنی ظاہری شان و شوکت سے نہ بچ سکے، مگر محمد (ﷺ) ایسی ظاہری کھوکھلی شان و شکوہ سے پاک تھے۔ وہ درویش بادشاہ تھے۔ سادگی اور قناعت ان کا شیوہ تھا۔‘‘

مغرب کے نامور ادیب سرجارج برناڈشانے ایک موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ ’’میرا ایمان ہے کہ اگر ان جیسا (یعنی محمد ﷺ ) جیسا انسان، آج دنیا کا اقتدار سنبھال لے تو دنیا کے تمام مسائل حل ہوجائیں ۔ اس طرح کہ دنیا امن و خوش حالی سے بہرہ ور ہوجائے گی اور محمد (ﷺ) کا دین، تمام یورپ میں مقبول ہوجائے گا، کیوں کہ ان کے دین (یعنی دین اسلام میں) یہ صلاحیت موجود ہے۔‘‘سرکارِ دو جہاں، ختمی مرتبت، محسنِ انسانیت، سرورِ کونین، حضرت محمدﷺ نے بے مثال قائد اور عظیم سیاسی مُدبّر و عاملِ حکومت کی حیثیت سے مثالی انسانی سوسائٹی کی تشکیل کی۔مختصر یہ کہ پیغمبری، قیادت و حکمرانی اور سیاست و حکومت کا کوئی شعبہ ایسا نہیں تھا، جس کے لیے آپ ﷺ نے کوئی اصول اور قانون نہ پیش کیا ہو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

اقراء سے مزید

اسلام سے مزید




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*